29 ستمبر 2026 - 15:12
4 | کچھ پڑوسی ممالک ایران کو مضبوط نہیں دیکھنا چاہتے، ایڈمرل سیاری

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف نے کہا: ہمارے دشمن، اور کچھ پڑوسی ممالک ایران کے دشمنوں کی حمایت کر رہے ہیں اور ایک طاقتور اور مضبوط ایران کو نہیں چاہتے / کچھ ممالک اپنی سہولیات اور اڈے دشمن کے حوالے کر رہے ہیں تاکہ وہ ایران پر حملہ کر سکے، اور ساتھ ہی اسلامی جمہوریہ سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ انہیں ان پر جوابی حملہ نہ کیا جائے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف نے آج صبح (پیر 28 ستمبر کو) شہداء، جانبازوں (جنگ میں معذور ہونے والے افراد) نیز ایثارگروں (غازیوں) کے خاندانوں کی تعظیم کی تقریب میں، شہداء کو خراج عقیدت پیش کرتے کیا اور ان کے خاندانوں کو سلام پیش کرتے ہوئے کہا: مجھے فخر ہے کہ آج اس باوقار تقریب میں شہداء، جانبازوں اور ایثارگروں کے معزز خاندانوں کی خدمت میں حاضر ہوں۔

اسلامی جمہوریہ ایران کی فوج کے چیف آف اسٹاف، ایڈمرل حبیب اللہ سیاری نے کہا:

چوتھی اور آخری قسط:

دشمن، اور دشمن کے ساتھ کھڑے کچھ ممالک، مضبوط ایران کو نہیں دیکھنا چاہتے

دشمن ایران کو طاقتور نہیں دیکھنا چاہتا؛ دشمن کمزور اور ٹوٹا ہؤا ایران چاہتا ہے اور اس نے اپنے مفادات اسی ہدف کے حصول میں متعین کئے ہیں۔ اسی لئے وہ اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف تسلسل کے ساتھ مختلف حربے استعمال کر رہا ہے۔

لہٰذا؛ ہمیں ہوشیار رہنا چاہئے اور دیکھنا چاہئے کہ 12 روزہ جنگ اور رمضان کی جنگ میں ہماری قوم اور ہماری مسلح افواج پر کون سی اقدار حاوی تھیں، لڑنے کا طریقہ کیسا تھا اور دشمنوں نے مخالف فریق کی کیسے مدد پہنچائی اور انہیں پیسہ، سازوسامان، سہولیات اور انسانی وسائل فراہم کئے؟

اگر ہم خلیج فارس کے جنوبی کنارے اور بحیرہ کیسپین کے ارد گرد کے پڑوسی ممالک کو دیکھیں، تو واضح ہوتا ہے کہ یہاں سے ہمارے دشمن کو کون سی حمایتیں فراہم کی گئیں۔

ظاہر ہے کہ وہ طاقتور ایران کے خواہاں نہیں ہیں۔ جب ان میں سے کچھ ممالک سے کہا جاتا ہے کہ تمہاری سرزمین پر دشمن کا اڈہ ہے اور دشمن نے اس اڈے سے ایران پر حملہ کیا ہے، تو وہ درخواست کرتے ہیں کہ انہیں نشانہ نہ بنایا جائے؛ حالانکہ انہوں نے اپنی سہولیات دشمن کے حوالے کر دی ہیں۔

ہمیں دیکھنا چاہئے کہ دفاعِ مقدس کے دور سے اب تک کون سی اقدار ہم پر حاوی رہیں جن کی بدولت ہم ملک اور انقلاب کے تحفظ اور اس کی سربلندی کی حفاظت، میں کامیاب ہوئے۔

انہوں نے سوچا کہ رہبر انقلاب اسلامی کی شہادت سے ایران کو ٹوٹ پھوٹ سے دوچار کر سکتے ہیں

12 روزہ جنگ میں انہوں نے سوچا کہ وہ آسانی سے ملک میں بغاوت پیدا کر سکتے ہیں اور ٹوٹ پھوٹ کا سبب بن سکتے ہیں، لیکن وہ کامیاب نہیں ہوئے۔ پھر انہوں نے سوچا کہ اگر وہ خیمے کے ستون کو نشانہ بنائیں تو رمضان کی جنگ میں اپنا ہدف حاصل کر لیں گے۔

28 فروری کو انہوں نے ہمارے رہبر کو شہید کیا، لیکن کیا وہ اپنے ہدف تک پہنچے؟ ہمارے عوام میں مزید جوش و جذبہ پیدا ہؤا اور انہوں نے انتقام کا مطالبہ کیا اور وہ اس معاملے سے آسانی سے نہیں گذریں گے۔

حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے عاشورا کا پیغام پہنچایا

جب ہم عاشورا کی اقدار کی منتقلی کے بارے میں بات کرتے ہیں، تو ہمیں یاد رکھنا چاہئے کہ حضرت زینب (سلام اللہ علیہا) نے عاشورا کا پیغام پہنچایا اور اگر آپ ایسا نہ کرتیں تو تو کربلا کا واقعہ کربلا میں ہی دفن ہوکر رہ جاتا۔

اگر ہم دفاعِ مقدس کی اقدار آج کے نوجوانوں اور جوانوں تک پہنچا سکیں، تو ہم نے سب سے بڑے کاموں میں سے ایک کر دیا ہے؛ کیونکہ آج کے معاشرے کو اس کی ضرورت ہے۔"

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha