بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || امریکی جریدے "فارن افیئرز (Foreign Affairs)" نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ سعودی عرب کو اپنی تاریخ کے مشکل ترین سیکورٹی اور اقتصادی مرحلے کا سامنا ہے۔ خلیج فارس اور بحیرہ احمر میں سعودی تیل کی برآمد کے راستوں پر حملے ہو رہے ہیں، گھٹن بڑھ گئی ہے۔ امریکہ نے بھاری رقوم لینے باوجود سعودی عرب کو سلامتی کے خطرات سے محفوظ نہیں رکھا ہے۔ (1)
فارن افیئرز میگزین کے مضمون کا خلاصہ: 20 اہم نکات:
1۔ سعودی عرب کی بین الاقوامی طاقت کا بڑا حصہ تیل کی پیداوار اور آمدنی پر منحصر ہے، لیکن حالیہ تبدیلیوں نے اس کے بحری راستوں اور تیل کے ڈھانچوں کو دباؤ سے دوچار کر دیا ہے۔
2۔ خلیج فارس میں سعودی تیل بردار جہازوں کو یمن کی طر ف سے پابندیوں کا سامنا ہے، بحیرہ احمر میں سعودی بحری جہاز حملوں کی زد میں ہیں، اور سعودی تیل کی کی سب سے بڑی پائپ لائن ڈرون حملوں کے بعد بند ہو گئی ہے۔
3۔ امریکہ اور خلیج فارس کی عرب ریاستوں کے درمیان کئی دہائیوں پر محیط سلامتی کے معاہدے تھے، جن کے تحت امریکہ دفاع، بحری آزادی، ایران کا مقابلہ کرنے، فضائی دفاع اور اتحادی حکومتوں کی حفاظت کا ذمہ دار تھا، جبکہ عرب ممالک امریکی اڈوں کی میزبانی اور تیل کی مستحکم فراہمی میں تعاون کرتے تھے۔ (2)
4۔ ایران کے خلاف امریکہ کی حالیہ جنگ اس معاہدے میں بڑی خرابی کا سبب بنی، اور سعودی عرب کے پاس امریکی سیکورٹی کا کوئی واضح متبادل نہیں ہے۔
5۔ سعودی عرب کے زیادہ تر آئل فیلڈز اور ریفائنریاں خلیج فارس کے قریب واقع ہیں، جہاں آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد تیل کی برآمد میں شدید رکاوٹیں کھڑی ہوئی ہیں۔
6۔ سعودی عرب نے خلیج فارس پر انحصار کم کرنے کے لئے مشرق-مغرب پائپ لائن استعمال کی، جس کی گنجائش جنگ سے پہلے روزانہ تقریباً 10 لاکھ بیرل تھی، مگر آبنائے ہرمز بند ہونے کے بعد یہ بڑھ کر 40 سے 50 لاکھ بیرل روزانہ ہو گئی تھی۔
7۔ ایران کی حمایت یافتہ عراقی ملیشیاؤں (3) نے ڈرون سے سعودی عرب پر حملہ کر کے ایک تیل پمپ اسٹیشن کو نقصان پہنچایا، جس سے مشرق-مغرب پائپ لائن بند ہو گئی، اور اسے بحال کرنے میں ایک ماہ سے زیادہ وقت لگ سکتا ہے۔
8۔ یمن کی انصاراللہ فورسز نے بحیرہ احمر میں سعودی جہازرانی پر دباؤ بڑھایا، جولائی میں سعودی جہازرانی کی ناکہ بندی کا اعلان کیا اور آبنائے باب المندب کے ارد گرد حملے کئے اور اس کو سعودی حمایت یافتہ پراکسیز سے آزاد کرایا۔
9۔ بحیرہ احمر کا شمالی راستہ سعودی جہازوں کے لئے کھلا ہے، مگر نہر سوئیز بڑے تیل بردار جہازوں کو گذارنے سے قاصر ہے، جبکہ سعودی تیل بردار بیڑے کا تقریباً نصف حصہ بڑے جہاز ہیں۔
10۔ یمن کی انصار اللہ نے حال ہی میں بندرگاہ "مخاء" اور باب المندب کے قریب کئی جزیروں کو سعودی پراکسیز سے آزاد کرایا، جس سے سعودی جہازوں کو درپیش خطرات میں شدید اضافہ ہؤا۔
11۔ 15 ستمبر کو بندرگاہ "ینبع" میں تیل کی لوڈنگ روک دی گئی، اور ارامکو نے یورپی ریفائنریوں کو اطلاع دی کہ وہ کچھ عرصے تک تیل کی ترسیل نہیں کر سکے گا۔
12۔ انصار اللہ کے حملے سعودی عرب کے اندر تک پھیل گئے، ریاض کا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور کچھ تیل کی تنصیبات نشانہ بنیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رپورٹ: مہدی محمودی
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ