بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || رہبر معظم کے نمائندے اور اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے نیوز چینل سے بات چیت کرتے ہوئے کہا: میں ایران کی باعزت قوم، شہداء کے خاندانوں اور مسلط کردہ جنگ کے سپاہیوں ہفتۂ دفاع مقدس کے موقع پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔
رہبر معظم کے نمائندے اور اعلی قومی سلامتی کونسل کے سیکرٹری، میجر جنرل ڈاکٹر محسن رضائی نے کہا:
تیسری اور آخری قسط:
آج کا ایران جنگ سے پہلے کا ایران نہیں ہے
ہم آج چوٹی پر ہیں، آج کا ایران جنگ سے پہلے کا ایران نہیں ہے۔ کوئی آج کے ایران کو جنگ سے پہلے کی طرح نہیں دیکھتا۔ ہم نے ٹرمپ جیسی کوئی غیر قانونی خلاف ورزی نہیں کی ہے۔ طاقت اور فوجی ترقی کے لحاظ سے ہم دنیا اور خطے میں بہت بہتر پوزیشن میں ہیں۔
امریکہ ہماری شرائط نہ مانے تو ہرمز نہیں کھلے گا / باتیں بہت ہوئیں، عمل کا وقت ہے
مذاکرات کے حوالے سے، ہمارے موقف میں نہ صرف تبدیلی نہیں آئی بلکہ ہماری نئی سفارتکاری پوری قوت سے اپنا کام کر رہی ہے۔ ہم ماضی کے دور میں واپس نہیں جائیں گے۔ ہماری شرائط اس لحاظ سے ماضی سے مختلف ہیں کہ ہم امریکہ کو مجبور کرتے ہیں کہ وہ ایرانی قوم کا اعتماد حاصل کرے؛ چنانچہ انہیں پہلے عمل کرنا ہوگا۔ اگر امریکہ ہماری شرائط پر پہلے عمل نہ کرے تو نہ آبنائے ہرمز کھلے گا اور نہ ہم مذاکرات کریں گے۔
ہماری شرائط ماضی سے بالکل مختلف ہیں۔ بعض اوقات ہم کچھ شرائط بتا سکتے ہیں لیکن ایران کی 7 شرائط ہیں۔ پاکستانیوں، قطریوں اور عراقیوں نے کہا کہ تمہاری شرائط کیا ہیں؟ انہوں نے کہا کہ امریکیوں نے ان سے کہا ہے کہ ایران کی شرائط لکھ لیں، اور انہوں نے یہ شرائط لکھ کر امریکیوں کے حوالے کر دیں۔ آج بھی ایران کی شرائط پاکستان اور قطر کے پاس موجود ہیں۔
طے ہؤا کہ ہم امریکہ میں اپنی شرائط کا اعلان کریں
صدر پزشکیان اور وزیر خارجہ عراقچی کے ساتھ ایک میٹنگ میں طے ہؤا کہ ہم اپنی شرائط کا اعلان امریکہ میں کر دیں۔ کوئی نئی بحث اور نئی شرط نہیں ہے بلکہ ہماری طے شدہ شرائط کا اعلان کرنا ہے۔ جب تک ہماری شرائط پوری نہ ہوں تو آبنائے ہرمز کھلے گا نہ مذاکرات کریں گے۔ ہم اس مرحلے میں کیوں داخل ہوئے؟ اس لئے کہ امریکی ناقابل اعتماد ہیں۔ ہم نئی سفارتکاری چاہتے ہیں۔
ایران کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا ورنہ آبنائے ہرمز نہیں کھلے گا
ایران کی شرائط پر عمل کرنا ہوگا اور اگر نہ کریں تو آبنائے ہرمز نہیں کھلے گا نہیں۔ میں پہلے بھی کہہ چکا ہوں کہ یہ امریکی ہیں جو ایسے اقدامات کرتے ہیں کہ آبنائیں بند ہو جائیں۔ یمنی مکمل طور پر خودمختار ہیں اور ہم نہیں چاہتے کہ سعودی عرب اور یمن کے درمیان جنگ ہو۔ ہم جنگ کے خواہاں نہیں ہیں۔
آبنائے ہرمز کھلنے سے پہلے ایران کی شرائط پر عمل ہونا چاہئے۔ انہیں اعتماد سازی کرنی چاہئے۔
نئی ڈپلومیسی میں دوسری بات ضمانت ہے: ہمارے پاس آبنائے ہرمز ہے اور وہ ایران کے ہاتھ میں قوم کے حقوق حاصل کرنے کی قوت اقتدار اور ذریعہ ہے۔
خطے کے ممالک امریکہ کی مہم جوئیوں میں نہ الجھیں
ممکن ہے کہ وہ (ٹرمپ) کسی پہاڑ یا صحرا میں پروپیگنڈا کرے یا کچھ طیارے گذار کر ویڈیو بنوائے۔ کیونکہ امریکہ کو اس کی ضرورت ہے لیکن ہم اس عمل کو بھی برداشت نہیں کریں گے۔
طیاروں پر پابندی کا معاملہ؛ ہمارے طیارے پرواز نہ کر سکیں تو ان کے طیارے بھی نہیں اڑ سکیں گے۔
جہاں تک ایرانی طیاروں پر پابندی کی امریکی تجویز کا تعلق ہے تو ہم خطے کی تمام ریاستوں کو خبردار کرتے ہیں کہ امریکہ کی مہم جوئیوں میں نہ الجھیں۔ اگر وہ ایرانی طیاروں کو پرواز نہ کرنے دیں تو ان کے ہوائی اڈے بھی پرواز کے قابل نہیں رہیں گے۔ میں نے سے کہتا ہوں کہ آپ ہمارے دوست ہیں لیکن آپ کو امریکہ کی صف میں نہیں جانا چاہئے۔ آپ جنگ کا دائرہ نہ پھیلنے دیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ