23 ستمبر 2026 - 08:33
امریکی یک قطبی وہم کا خاتمہ؛ اسلامی جمہوریہ ایران کی تسدیدی صلاحیت اور فوجی طاقت

اگرچہ کچھ تجزیہ کار اب بھی 1990 کی دہائی، اور سرد جنگ کے دور کے اختتام، کے وہم میں مبتلا ہیں اور امریکہ کو دنیا کی بالادست طاقت سمجھتے ہیں، لیکن وہ اس حقیقت کے ادراک قاصر ہیں کہ دنیا کثیر قطبی ہو چکی ہے اور ایران، روس اور چین کی طرح نئے عالمی نظام میں ایک آزاد قطب بن چکا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مورخہ 28 فروری 2026ع‍، وہ دن جسے عالمی جغرافیائی سیاست کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر درج کیا جائے گا۔ اس دن، امریکہ اور اسرائیل نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایران کے خلاف وسیع حملے شروع کئے۔ واشنگٹن کا اعلان کردہ مقصد سادہ اور واضح تھا: "ایران کو بطور علاقائی طاقت ختم کرنا"۔ لیکن سات ماہ بعد کی میدانی حقیقت نے دنیا کو بالکل مختلف تصویر دکھائی ہے۔ امریکہ اس جنگ میں ـ جو اس نے خود شروع کی تھی ـ نہ صرف اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پایا، بلکہ ایک اسے ایسے واقعے کا سامنا کرنا پڑا جس نے بین الاقوامی نظام کے فارمولوں کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا: یک قطبی دنیا کے وہم کا خاتمہ۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر، جیفری ساکس (Jeffrey D Sachs) نے اس حقیقت کو بخوبی بیان کیا ہے: "ایران کی جنگ وہ لمحہ تھا جب امریکہ کی مطلق طاقت کا افسانہ حقیقت کی پتھریلی دیوار سے ٹکرایا"۔ یہ صرف ایک حکومت یا ایک صدر کی شکست نہیں تھی، بلکہ اس نے "سرد جنگ کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کے پورے منصوبے کی تباہی" کو نمایاں کر دیا۔ واشنگٹن سنہ 1991ع‍ میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد کے عارضی خلا کو دائمی تسلط سمجھ بیٹھا، لیکن "یک قطبی دنیا کا خیال شروع ہی سے ایک وہم تھا"۔ ایران نے 2026 میں اس وہم کو ہمیشہ کے لئے توڑ دیا۔

 پانچواں حصہ: ایران کی تسدیدی صلاحیت اور فوجی طاقت

جو کچھ دنیا نے سنہ 2026 دیکھا وہ 'ایران کی فوجی صلاحیت کی تباہی' کے وہم کی شکست ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کے وسیع حملوں کے باوجود، ـ جن کے بارے میں امریکی پروپیگنڈا مشینری نے دعویٰ کیا کہ "ایران کی دفاعی صنعت کا 90 فیصد حصہ تباہ ہو گیا ہے" ـ  ایران نے توقع سے زیادہ تیزی سے اپنی فوجی طاقت دوبارہ تعمیر کی ہے۔

امریکی انٹیلی جنس رپورٹس کے مطابق، ایران کے پاس اب بھی ہزاروں ڈرون ہیں جو امریکیوں کے بقول جنگ سے پہلے کی صلاحیت کے تقریباً 50 فیصد حصے کو تشکیل دیتے ہیں۔ علاوہ ازیں ایران کے تقریباً دو تہائی میزائل لانچر حملوں سے بچ گئے ہیں۔ ایرانی حکام نے اعلان کیا ہے کہ "ایران کی 75 فیصد سے زیادہ میزائل اور ڈرون صلاحیت صحیح و سالم اور لانچنگ کے لئے تیار ہے"۔

واضح رہے کہ ایران کے ہتھیاروں کے بارے میں امریکیوں کے تمام تر اندازے 'مفروضوں پر مشتمل' ہیں۔

ادھر سپاہ پاسداران کے کمانڈر انچیف کے مشیر، بریگیڈیئر جنرل محمد رضا نقدی نے تاکید کی ہے کہ "ایران کے بیلسٹک میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار کی شرح ان کے استعمال کی شرح سے آگے بڑھ گئی ہے۔" اور "ڈرونز کی پیداواری صلاحیت ان کے استعمال کی شرح سے بہت زیادہ ہے"۔

یعنی میزائلوں اور ڈرونز کی پیداوار زیادہ ہے اور استعمال کم، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ امریکیوں کے تمام اعداد و شمار مفروضوں پر مبنی ہیں۔

مغربی ذرائع کے مطابق، ایران نے اپنی فوجی طاقت کی تعمیر نو میں چین اور روس کی تزویراتی مدد سے بھی فائدہ اٹھایا ہے۔ چین نے ایران کے فوجی نیویگیشن سسٹم کو امریکی جی پی ایس سے اپنے خفیہ نیویگیشن" بیڈو-3" سسٹم میں منتقل کر دیا ہے۔ روس نے بھی ایران کو ڈرون فراہم کئے ہیں اور تہران کے ساتھ ہتھیاروں کی فروخت کے متعدد معاہدے کئے ہیں۔ تاہم، اہم بات یہ ہے کہ اس تعاون کا مطلب یہ نہیں ہے کہ ایران روس یا چین کی مدد پر انحصار کر رہا ہے؛ بلکہ ایران نے داخلی صلاحیت اور تزویراتی تعاون سے فائدہ اٹھا کر بے مثال تسدید قائم کی ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha