23 ستمبر 2026 - 07:36
امریکی یک قطبی وہم کا خاتمہ؛ اسلامی جمہوریہ ایران، کثیر قطبی نظام کا معمار

اگرچہ کچھ تجزیہ کار اب بھی 1990 کی دہائی، اور سرد جنگ کے دور کے اختتام، کے وہم میں مبتلا ہیں اور امریکہ کو دنیا کی بالادست طاقت سمجھتے ہیں، لیکن وہ اس حقیقت کے ادراک قاصر ہیں کہ دنیا کثیر قطبی ہو چکی ہے اور ایران، روس اور چین کی طرح نئے عالمی نظام میں ایک آزاد قطب بن چکا ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || مورخہ 28 فروری 2026ع‍، وہ دن جسے عالمی جغرافیائی سیاست کی تاریخ میں ایک فیصلہ کن موڑ کے طور پر درج کیا جائے گا۔ اس دن، امریکہ اور اسرائیل نے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ایران کے خلاف وسیع حملے شروع کئے۔ واشنگٹن کا اعلان کردہ مقصد سادہ اور واضح تھا: "ایران کو بطور علاقائی طاقت ختم کرنا"۔ لیکن سات ماہ بعد کی میدانی حقیقت نے دنیا کو بالکل مختلف تصویر دکھائی ہے۔ امریکہ اس جنگ میں ـ جو اس نے خود شروع کی تھی ـ نہ صرف اپنے مقاصد حاصل نہیں کر پایا، بلکہ ایک اسے ایسے واقعے کا سامنا کرنا پڑا جس نے بین الاقوامی نظام کے فارمولوں کو ہمیشہ کے لئے بدل دیا: یک قطبی دنیا کے وہم کا خاتمہ۔

کولمبیا یونیورسٹی کے پروفیسر، جیفری ساکس (Jeffrey D Sachs) نے اس حقیقت کو بخوبی بیان کیا ہے: "ایران کی جنگ وہ لمحہ تھا جب امریکہ کی مطلق طاقت کا افسانہ حقیقت کی پتھریلی دیوار سے ٹکرایا"۔ یہ صرف ایک حکومت یا ایک صدر کی شکست نہیں تھی، بلکہ اس نے "سرد جنگ کے بعد امریکی خارجہ پالیسی کے پورے منصوبے کی تباہی" کو نمایاں کر دیا۔ واشنگٹن سنہ 1991ع‍ میں سوویت یونین کے انہدام کے بعد کے عارضی خلا کو دائمی تسلط سمجھ بیٹھا، لیکن "یک قطبی دنیا کا خیال شروع ہی سے ایک وہم تھا"۔ ایران نے 2026 میں اس وہم کو ہمیشہ کے لئے توڑ دیا۔

دوسرا حصہ: اسلامی جمہوریہ ایران، کثیر قطبی نظام کا معمار

ایران آج نہ صرف ایک علاقائی طاقت ہے، بلکہ نئے عالمی نظام کے بنیادی ستونوں میں سے ایک ہے۔ ایشیا ٹائمز کی ویب گاہ نے ایک فیصلہ کن تجزیئے میں لکھا ہے: "ایک تاریخی طنز اس حقیقت میں چھپا ہؤا ہے کہ امریکہ فروری سنہ 2026ع‍ میں ایران کو بطور علاقائی طاقت ختم کرنے کے ارادے سے جنگ میں داخل ہؤا، لیکن یہ منصوبہ الٹ گیا اور اس جنگ نے ایران کے تسلط کو مضبوط کیا"۔ ایران سنہ 2026ع‍ کی جنگ سے "ایک ٹوٹی ہوئی حکومت کے طور پر نہیں، بلکہ خلیج فارس میں بالادست طاقت کے طور پر" عہدہ بر آ ہؤا ہے۔

اٹلانٹک میگزین نے بھی صاف طور پر اعلان کیا ہے: "مشرق وسطیٰ میں غالب طاقت اب امریکہ یا اسرائیل نہیں ہو گا، بلکہ ایران ہے"۔ اس جریدے نے اس بات پر زور دیا ہے کہ ایران "ایک سپر پاور اور اسرائیل کے سامنے کھڑا رہا، ان کے جدید ترین ہتھیاروں کے حملوں سے بچ گیا اور محض باقی رہنے سے زیادہ، اپنی زندگی پر اثر اندآز سے جاری رکھی"۔ نتیجے کے طور پر، "ایران نے 'امریکہ کی مدد سے!'، مشرق وسطیٰ اور خلیج فارس میں طاقت کے ڈھانچے کو مکمل طور پر نئے سرے سے ترتیب دیا ہے"۔

امریکہ کے ممتاز نو قدامت پسند اسٹراٹیجسٹ اور افغانستان اور عراق پر امریکی قبضے کے معمار، رابرٹ کیگن (Robert Kagan)، نے بھی اس حقیقت کا اعتراف کیا ہے کہ "ایران کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کی جنگ ناکام ہو گئی اور تہران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور نہ کر سکی اور خطے میں غالب طاقت اب ایران ہو گا"۔

پڑوسی ممالک اس نئی حقیقت کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہے ہیں اور دور کی طاقتیں بھی جلد ایسا ہی کریں گی۔ دنیا برسوں تک ایران کے ساتھ گھٹن کے سائے میں تعامل کرتی رہی ہے؛ اب دیکھے گی کہ "آزاد ایران" کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha