بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سورہ انسان (دہر) کی آخری آیات، جنتی نعمتوں اور شایستہ بندوں کی خصوصیات بیان کرنے کے بعد، اس مقام تک پہنچنے کا راستہ دکھاتی ہیں۔ آیت 26 میں قرآن کا خطاب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ) کو راتوں کی عبادت کی دعوت دیتا ہے:
"وَمِنَ اللَّيْلِ فَاسْجُدْ لَهُ وَسَبِّحْهُ لَيْلًا طَوِيلًا؛
اور رات کے ایک حصے میں بھی سجدہ کیجئے اور اس کی تسبیح کیجئے رات کے طویل حصے میں۔"
یہ حکم اس سے پہلے کے احکامات کا تسلسل ہے جو صبر، اللہ کی یاد اور اس کا ذکر، اور مخالفین کے مقابلے میں استقامت کے بارے میں ہیں، یعنی جو شخص دوسروں کی ہدایت کا ذمہ دار ہے، اسے اپنا تعلق طاقت اور ہدایت کے سرچشمے سے مضبوط کرنا چاہئے۔
دنیا کو چاہتے ہیں، قیامت کو نظرانداز کر دیتے ہیں
اس راستے کے مقابلے میں، قرآن ایک ایسے گروہ کا ذکر کرتا ہے جو "يُحِبُّونَ الْعَاجِلَةَ" [یعنی] وقتی دنیاوی زندگی سے محبت کرتے ہیں اور "وَيَذَرُونَ وَرَاءَهُمْ يَوْمًا ثَقِيلًا؛ اور جو بھاری دن آگے آنے والا ہے اسے پس پشت ڈال دیتے ہیں"، "یوم ثقیل = بھاری دن" کی تعبیر روز قیامت کی دشواری اور عظمت کی طرف اشارہ ہے۔ ان لوگوں کا اصل مسئلہ محض دنیا سے فائدہ اٹھانا نہیں، مسئلہ یہ ہے کہ انہوں نے دنیا کو آخری منزل سمجھ لیا ہے اور آخرت کو بھلا دیا ہے۔
اگلی آیت انہیں خدائے قادر متعال کی مطلق طاقت یادآوری کراتا ہے:
"نَحْنُ خَلَقْنَاهُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَهُمْ؛
ہم نے انہیں پیدا کیا ہے اور ان کے اعضاء وجوارج کا مضبوط نظام بنایا ہے۔"
وہ) وہی خدا ہے جس نے انسان کو پیدا کیا اور اس کے وجود کی ساخت کو مضبوط کیا، اگر چاہے تو انہیں مٹا دے اور کسی دوسرے گروہ کو ان کی جگہ لے آئے۔ (1) اس لئے انسان کو اپنی طاقت اور بقا کو خدا کی مشیت سے خارج نہیں سمجھنا چاہئے۔
خدا کا راستہ کھلا ہے، مگر انسان اپنے ارادے کا 'خودمختار' مالک نہیں ہے
اس تنبیہ کے بعد، قرآن فرماتا ہے:
"إِنَّ هَذِهِ تَذْكِرَةٌ فَمَنْ شَاءَ اتَّخَذَ إِلَى رَبِّهِ سَبِيلًا؛
یقینا اس میں ایک بڑی نصیحت ہے تو جو چاہے اپنے پروردگار کی طرف کا راستہ اختیار کر سکتا ہے۔"
اہم بات یہ ہے کہ قرآن انسان کی آزادی کو تسلیم کرتا ہے، مگر فوراً خبردار کرتا ہے کہ:
"وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ اللَّهُ؛
اور تمہارا چاہنا کچھ نہیں جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔"
علامہ طباطبائی المیزان میں زور دیتے ہیں کہ اس آیت کا مطلب 'جبر' نہیں ہے۔ خدا کی مشیت ایسی نہیں ہے کہ انسان کی آزادی و اختیار کو ختم کر دے؛ بلکہ انسان کی خواہش نظامِ خلقت میں خدا کی مشیت سے آزاد اور بے نیاز نہیں ہے۔ انسان فعل اپنے ارادے سے کرتا ہے، مگر انسانی ارادے کا امکان اور اس کی عملی صورت اس نظام سے منسلک ہے جو اللہ نے قائم کیا ہے۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ "نَحْنُ خَلَقْنَاهُمْ وَشَدَدْنَا أَسْرَهُمْ وَإِذَا شِئْنَا بَدَّلْنَا أَمْثَالَهُمْ تَبْدِيلًا؛ ہم نے انہیں پیدا کیا ہے اور ان کے اعضاء وجوارج کا مضبوط نظام بنایا ہے اور ہم جب چاہیں تو ان کی جگہ دوسروں کو خلق کر دیں ۔"
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: مہدی احمدی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
تلاوت سنیے:
آپ کا تبصرہ