گیلان سے مجلس خبرگان رہبری کے رکن اور عالمی اہل بیت اسمبلی کے جنرل سیکریٹری آیت اللہ رضا رمضانی نے اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا سے گفتگو کرتے ہوئے دفاع مقدس ہفتے اور مسلسل جاری عوامی اجتماعات کا ذکر کیا۔ انہوں نے کہا کہ عوام کی مسلسل شرکت اس بات کا مظہر ہے کہ ایرانی قوم اپنے نظریات، آزادی اور قومی وقار کے دفاع سے پیچھے نہیں ہٹے گی۔
انہوں نے کہا کہ مسلسل دو سو راتوں تک عوامی اجتماعات کا جاری رہنا محض ایک معمولی اجتماع نہیں بلکہ ایک غیر معمولی عوامی تحریک اور جدوجہد کا مظہر ہے، جو دشمن کے مقابلے میں ایک قوم کی طاقت، اتحاد اور عزم کو ظاہر کرتی ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے معاشرے میں ثقافتِ شہادت کی اہمیت پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ شہید کا خون معاشرے کو بیدار اور قوموں کو اپنے نظریات کے دفاع کے لیے متحد کرنے کی عظیم طاقت رکھتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ شہداء کی یاد اور ان کے خون کا مطالبہ محض ایک جذباتی مسئلہ نہیں بلکہ اس راستے اور مقصد کو جاری رکھنے کا نام ہے جس کے لیے انہوں نے اپنی جانیں قربان کیں۔
ان کے مطابق شہدائے میناب، سائنس دانوں، فوجی کمانڈروں اور بالخصوص ’’امامِ شہید‘‘ کی شہادت ایک اہم اور ناقابلِ فراموش معاملہ ہے، جس کے مختلف پہلوؤں پر توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے نظریۂ مزاحمت کو مزید مضبوط بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ مزاحمت صرف ایک عارضی سیاسی ردِعمل نہیں بلکہ عزت، آزادی اور قوموں کے حقوق کے دفاع پر مبنی ایک فکری اور عملی راستہ ہے۔
انہوں نے کہا کہ مزاحمت کا مطلب محض دباؤ برداشت کرنا نہیں، بلکہ حالات کو درست طور پر سمجھنا، اپنی ذمہ داری کا تعین کرنا، داخلی صلاحیتوں کو بڑھانا اور دباؤ کے مقابلے میں شعوری طور پر کھڑے ہونا ہے۔
ان کے مطابق مزاحمت اسی وقت مؤثر ہوسکتی ہے جب معاشرے کے مختلف طبقات، ادارے اور ذمہ دار قوتیں مشترکہ عزم کے ساتھ اپنی ذمہ داریاں ادا کریں۔
آیت اللہ رمضانی نے موجودہ حالات میں ’’دشمن شناسی‘‘ کو اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ دشمن کو سطحی انداز میں نہیں سمجھنا چاہیے بلکہ اس کے اہداف، طریقۂ کار، وسائل اور ماضی کے تجربات کا گہرائی سے جائزہ لینا ضروری ہے۔
انہوں نے ایران اور امریکہ کے درمیان گزشتہ دہائیوں کے تعلقات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کا مطالعہ موجودہ حالات کو سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے مزید کہا کہ ایران انسانی، قدرتی، اقتصادی اور جغرافیائی اعتبار سے بڑی صلاحیتوں کا حامل ملک ہے، اس لیے قومی آزادی کے تحفظ اور ملکی وسائل کے استحصال کو روکنے کے لیے مسلسل ہوشیاری ضروری ہے۔
مجلس خبرگان رہبری کے رکن نے کہا کہ ایرانی قوم نے مزاحمت کے میدان میں متعدد اقوام کے لیے ایک مثال قائم کی ہے اور ثابت کیا ہے کہ جب عوام مضبوط اور باشعور ارادے کے ساتھ میدان میں آتے ہیں تو وہ دباؤ کا مقابلہ کرتے ہوئے حالات کے توازن کو تبدیل کرسکتے ہیں۔
انہوں نے یمن سمیت خطے میں مزاحمتی تحریکوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان واقعات سے ظاہر ہوتا ہے کہ عوامی شرکت اور اجتماعی ارادہ طاقت کا ایک اہم عنصر بن سکتے ہیں۔
آیت اللہ رمضانی نے کہا کہ اسلامی نظام کا اصل سرمایہ عوام ہیں اور اس سرمایہ کا کوئی متبادل نہیں ہوسکتا۔
انہوں نے حکام پر زور دیا کہ عوام کا اعتماد برقرار رکھا جائے، ان کے مطالبات سنے جائیں اور معاشرے میں امید کو مضبوط کیا جائے۔
ان کے مطابق مسلسل دو سو راتوں تک عوام کی شرکت کو معمولی واقعہ نہیں سمجھنا چاہیے، بلکہ اس کے سماجی، ثقافتی اور سیاسی پہلوؤں کو سمجھ کر قومی اتحاد اور یکجہتی کے فروغ کے لیے اس صلاحیت سے فائدہ اٹھانا چاہیے۔
آیت اللہ رمضانی نے ملک کے اقتصادی اور بنیادی ڈھانچے سے متعلق مسائل کا ذکر کرتے ہوئے حکومت اور حکام کی جانب سے عوامی مشکلات کم کرنے کی کوششوں کو سراہا، تاہم انہوں نے امید پیدا کرنے کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
انہوں نے کہا کہ حکام کو عوام کے سامنے مسائل اور مشکلات بیان کرنی چاہئیں، لیکن اس کے ساتھ ان کے حل، منصوبوں اور دستیاب صلاحیتوں سے بھی آگاہ کرنا چاہیے۔
ان کے مطابق اگر صرف بجلی، گیس یا دیگر ممکنہ قلتوں کا ذکر کیا جائے اور ان سے نمٹنے کے لیے منصوبہ اور حل پیش نہ کیا جائے تو اس سے عوامی امید متاثر ہوسکتی ہے۔
آیت اللہ رمضانی نے قومی تاب آوری میں اضافے کو ملک کی اہم ضرورت قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ ذمہ داری صرف عوام تک محدود نہیں بلکہ سفارتی اداروں، انتظامیہ، اقتصادی شعبے اور معاشرے کے تمام طبقات کو اپنی صلاحیت اور استقامت مضبوط کرنا ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایرانی عوام نے اقتصادی مشکلات، مہنگائی اور مختلف دباؤ کے باوجود صبر اور استقامت کی قابلِ ذکر صلاحیت کا مظاہرہ کیا ہے۔
ان کے مطابق عوام کا یہ تعاون ایک بڑا قومی سرمایہ ہے اور حکام کو مؤثر کارکردگی، مسلسل کوششوں اور عملی طور پر عوامی مسائل حل کرکے اس اعتماد کا جواب دینا چاہیے۔
آیت اللہ رمضانی نے واضح کیا کہ قومی تاب آوری کا مطلب مشکلات کو نظر انداز کرنا نہیں بلکہ مسائل کو تسلیم کرکے ان کے حل تلاش کرنا اور مشکلات کو اجتماعی عزم کمزور کرنے کا ذریعہ نہ بننے دینا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ عوامی امید اسی وقت مضبوط ہوگی جب قومی صلاحیتوں کے بیان کے ساتھ عملی اقدامات، عوامی خدمت اور ٹھوس نتائج بھی سامنے آئیں۔
آپ کا تبصرہ