بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || اسکاٹ لینڈ کی سینٹ اینڈریوز یونیورسٹی میں اسٹریٹجک اسٹڈیز کے پروفیسر فلپس پیسن او برائن (Phillips Payson O'Brien) نے ـ دی اٹلانٹک میں ایک مضمون میں ـ ایران کے خلاف امریکی فوجی جارحیت کے نتائج کی طرف اشارہ کرتے ہوئے لکھا ہے:
پانچویں اور آخری قسط:
مغربی ایشیا میں امریکہ کے شرکا کے رویئے میں تبدیلی
اس مضمون کے مطابق، دیگر ممالک بھی اب امریکہ کی آشکار ہونے والی نئی کمزوریوں سے ہم آہنگ (harmonize) ہو رہے ہیں۔
پاکستان، ترکیہ اور سعودی عرب، ـ جو سب امریکہ کے طویل المدتی شرکا تھے ـ نے حال ہی میں ایک مشترکہ دفاعی معاہدے پر دستخط کئے ہیں۔
اب جبکہ ایران نے آبنائے ہرمز کا کنٹرول سنبھال لیا ہے، اس آبی گذرگاہ کے دوسری طرف واقع عمان تہران کے ساتھ قریبی تعاون کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اور اسی اثناء میں خلیج فارس کے دیگر کنارے والے ممالک بھی ایران کے ساتھ رابطے قائم کر رہے ہیں۔
حتیٰ کہ جب ٹرمپ نے اس ملک کے ولی عہد محمد بن سلمان سے کہا کہ امریکہ یمن کے ساتھ جنگ میں سعودی عرب کی حمایت نہیں کرے گا، تو سعودی عرب کو بھی اپنے انتخاب کا دوبارہ جائزہ لینا پڑ رہا ہے؛ حالانکہ سعودی حکمرانوں نے دہائیوں تک اپنی سلامتی امریکی ہتھیاروں کی وسیع خریداری اور امریکی فوجی دستوں کی میزبانی پر استوار کر رکھی تھی۔
اسی اثناء میں، جنوبی کوریا چین کے ساتھ اپنے تعلقات بہتر بنا رہا ہے اور یورپی ممالک ـ پہلے سے زیادہ ـ یورپ کی سطح پر اپنا دفاعی ڈھانچہ بنانے پر غور کر رہے ہیں؛ یہ عالمی پیشرفت امریکہ کی صلاحیتوں اور ارادے پر دنیا کے مختلف ممالک کے اعتماد میں کمی آنے کی نشانی ہے۔
وائٹ ہاؤس اور پینٹاگون کی سطح پے، مسئلہ حل کرنے کے بجائے حقائق چھپانے کا رجحان
امریکی حکومت ظاہراً مسائل کی اصلاح سے زیادہ انہیں چھپانے میں دلچسپی رکھتی ہے؛ [یہ تاثر دینے کے لئے مسائل موجود ہی نہیں ہیں]
امریکی وزارت جنگ نے فوجی جریدے اسٹارز اینڈ اسٹرائپس کے کلیدی عملے کو ہٹا دیا اور گولہ بارود کی قلت اور دیگر مسائل سے متعلق معلومات کے افشا کی تحقیقات کے دوران پینٹاگون کے عملے کے کچھ ارکان کو جھوٹ پکڑنے والے آلات کے ذریعے ٹیسٹ (پولی گرافک ٹیسٹ) دینے پر مجبور کر دیا ہے۔
کوئی سوچ بھی نہیں سکتا تھا کہ ایران کے کو مفلوج کرکے رکھے گا
اگر امریکہ اپنے سابقہ طریقوں کی طرف لوٹنے کی کوشش کرے تو بھی حالیہ تبدیلیوں سے ظاہر ہوتا ہے کہ اس ملک کے عالمی اثر و رسوخ کا دائرہ مزید کم ہو جائے گا اور یہ بتانا فی الحال مشکل ہے کہ باقی دنیا خود کو اس تبدیلی سے کیسے ہم آہنگ کرے گی!
میرا دعویٰ ہے امریکی دور کے خاتمے کا مطلب لازماً یہ نہیں ہے کہ کہ یہ چین کے غلبے پر منتج ہوگا، کیونکہ چین کو بھی اپنے مخصوص مسائل کا سامنا ہے اور بھارت سمیت، ایشیا کے کچھ دیگر ممالک بھی ترقی کر رہے ہیں اور چین کے سامنے توازن قائم کر سکتے ہیں۔
وہ جمہوری ممالک جو امریکی حمایت پر انحصار کے بجائے اپنے دفاع کی ذمہ داری زیادہ سنجیدگی سے اٹھائیں گے، وہ بھی اس صورتحال سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں؛ اور ساتھ ہی یہ پیش گوئی بھی کی جا سکتی ہے کہ دنیا جنگوں اور مقابلوں کے ایک انتہائی ہنگامہ خیز دور میں داخل ہو سکتی ہے۔
یہ وہ انجام ہے جس کا بڑی طاقتوں کو لامحالہ متحمل ہونا پڑتا ہے
تاریخ کی تمام سابقہ عظیم طاقتیں بالآخر زوال پذیر ہوئیں۔
ہمیشہ سے طے یہی تھا کہ مشرقی ایشیا کا دنیا کے معاشی پیداواری مرکز کے طور پر ابھرنا، امریکہ کا اثر و رسوخ کم کر دے گا۔ ایک عالمی دور سے دوسرے دور میں منتقلی کا عمل شاذ و نادر ہی اسی لمحے دیکھا جا سکتا ہے جب وہ وقوع پذیر ہو رہا ہو۔
مثال کے طور پر، ساڑھے چار سال پہلے جب روس نے یوکرین پر حملہ کیا، بڑے پیمانے پر تیار ڈرونز کی صلاحیت ابھی مکمل طور پر آشکار نہیں ہوئی تھی۔ حتیٰ چند ہی ماہرین نے پیش گوئی کی تھی کہ امریکہ ایران کے سامنے اس حد تک بے بس اور مفلوج ہو جائے گا۔
پروفیسر فلپس پیسن او برائن (Phillips Payson O'Brien) نے مضمون کے اختتام پر نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ "بہرحال، ایران کے ساتھ امریکی جنگ نے ایک اہم نکتہ آشکار کر دیا ہے اور وہ یہ ہے کہ "امریکہ کا دور ختم ہو چکا ہے اور امریکہ کی عالمی بالادستی طاقت کے ان ذرائع کے بغیر جاری نہیں رہ سکتی جو اس بالادستی کا سبب بنے تھے۔ [وہ ذرائع جو اب حقیقت پسندانہ تجزیوں کے مطابق، شاید دوبارہ قابل حصول نہ ہوں]۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
از: میثم یعقوبی
ترتیب و ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ