اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،بھارت فلسطین یکجہتی نیٹ ورک اور بھارتی سول سوسائٹی گروپوں نے برکس سے ایران کے خلاف جارحیت اور لبنان کی خودمختاری کی خلاف ورزیوں کی مذمت، حکومتوں کی تبدیلی کی پالیسیوں کو مسترد کرنے اور میناب اسکول پر حملے سمیت شہریوں کو نشانہ بنانے والے واقعات کی آزاد بین الاقوامی تحقیقات کا مطالبہ کیا۔
انہوں نے برکس ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو ہتھیار، فوجی ٹیکنالوجی اور دیگر ایسی فوجی و اقتصادی معاونت فراہم کرنا بند کریں جو بین الاقوامی قانون کی مسلسل خلاف ورزیوں میں مدد دیتی ہے۔
انہوں نے برکس سربراہی اجلاس کے میزبان بھارت کی پالیسی پر بھی تنقید کی گئی۔ گروپوں نے یاد دلایا کہ بھارت کئی دہائیوں تک فلسطینیوں کے حق خودارادیت کی حمایت کرتا رہا ہے، تاہم غزہ کی تباہی کے دوران اسرائیل کے ساتھ اس کے بڑھتے ہوئے فوجی، اقتصادی اور سیاسی تعلقات نے اسے اسرائیلی اقدامات میں شریک بنا دیا ہے۔
گروپوں کے مطابق برکس کی میزبانی کرتے ہوئے بھارت کے پاس اپنی خارجہ پالیسی کو دوبارہ ایک آزادانہ، آئینی اور نوآبادیات مخالف بنیادوں پر استوار کرنے کا موقع موجود ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ صورتحال محض اختتامی اعلامیے میں تشویش کے اظہار سے زیادہ اقدامات کا تقاضا کرتی ہے۔ گروپوں نے برکس پر زور دیا کہ وہ فلسطین اور مغربی ایشیا کے تمام عوام کے لیے صرف بات نہ کرے بلکہ عملی اقدامات بھی کرے۔
آپ کا تبصرہ