بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ صدر اسلامی جمہوریہ ایران، ڈاکٹر مسعود پزشکیان نے کہا: دشمن نے ملک پر حملہ کر کے ٹوٹ پھوٹ اور عوام میں ناراضگی پیدا کرنے کی کوشش کی، لیکن نتیجہ قومی یکجہتی کی صورت میں سامنے آیا۔
انھوں نے کہا:: دشمن یہ سمجھتا تھا کہ وہ بنیادی ڈھانچے پر دباؤ ڈال کر اور عوام کے لئے مسائل پیدا کرکے ملک کو اختلاف اور عدم استحکام میں مبتلا کر سکتا ہے، لیکن ان اقدامات کا نتیجہ مزید قومی یکجہتی کی صورت میں نکلا اور ہم دشمن کے مذموم عزائم کو ناکام بنا دیں گے۔
صدر مسعود پزشکیان نے موجودہ جنگی صورتحال اور بیرونی دباؤ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: انقلاب کے بعد 48 سالوں میں ہم کبھی بھی محاصرے اور جنگ کی ایسی صورتحال میں نہیں تھے۔ دشمن نے حملہ کیا اور یہاں تک کہ ہمارے رہبر کو شہید کر دیا؛ وہ ملک کو بکھیرنا چاہتے تھے، لیکن ان اقدامات کا نتیجہ ہماری مزید یکجہتی کی صورت میں نکلا۔
انھوں نے عوام اور ملک کی فوجی و سیکیورٹی افواج کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: میں ان تمام عوام کا شکریہ ادا کرتا ہوں جنہوں نے ان حالات میں کوشش کی۔ سیکیورٹی افواج، بسیج، سپاہ اور فوج نے اپنی مزاحمت سے ملک کے تحفظ میں اہم کردار ادا کیا۔
پزشکیان نے مزید کہا: کسی طاقت نے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ ہمارے فوجی اور کمانڈر ان حملوں کے سامنے اتنی مضبوطی سے ڈٹ جائیں گے۔ وہ تمام مشکلات کے باوجود میدان میں موجود تھے اور ملک کے دفاع کے لئے قربانی دینے کو تیار تھے اور ہم ان کوششوں کے قدردان ہیں۔
انھوں نے جنگ کے دوران وزراء اور حکام کی کوششوں کی تعریف کرتے ہوئے کہا: دشمن یہ سمجھتا تھا کہ جنگ سے ملک بکھر جائے گا، لیکن مسلح افواج، حکام اور عوام کی ہم آہنگی کی کوششوں کی وجہ سے ہم ان حالات کے سامنے ڈٹ گئے اور طاقت کے ساتھ عوام کے ساتھ کھڑے رہیں گے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ