بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا || سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی کی پانچویں فورس "بسیج مستضعفین" کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین حسین طائب، نے ملک کی "بسیجِ اساتذہ" کے نئے سربراہ کی تعارفی تقریب میں عالمی نظام میں تبدیلیوں کی رفتار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: تبدیلیوں کا رخ اس طرح بڑھا ہے کہ تبدیلی کی رفتار، پہلے کی گئی پیش گوئیوں سے آگے نکل گئی اور عالمی نظام بنیادی انقلاب سے دوچار ہؤا۔
دوسرا اور آخری حصہ
60 فیصد امریکی عوام کا خیال ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ کی کوئی وقعت نہیں تھی
بسیج مستضعفین کے سربراہ نے سوال اٹھایا کہ "امریکیوں کی اس شکست کی وجہ کیا تھی؟، اور کہا: جب وہ کہتے ہیں کہ ہم نے ایران کی بحریہ کو تباہ کر دیا، فضائیہ کو تباہ کر دیا اور مسلح افواج کے مختلف حصوں کو نشانہ بنایا، تو انہیں ان دعوؤں پر اٹھے ہوئے سوالات کا جواب دینا چاہئے اور دنیا اور اپنی قوم کو بتانا چاہئے کہ ان دعوؤں کے باوجود جنگ کا نتیجہ ایسا کیوں نکلا؟ امریکہ کو مات کیوں ہوئی؟
انھوں نے کہا: امریکہ میں ہونے والے سروے کے مطابق، 60 فیصد سے زیادہ امریکی عوام کا خیال ہے کہ ایران کے خلاف جنگ کا ان کے لئے کوئی فائدہ نہیں ہے۔
انھوں نے کہا کہ استکبار کے خلاف ایرانی عوام کی مزاحمت، ملک کی سائنسی ی اور دفاعی طاقت کے متحد و مربوط ہونے کا نتیجہ ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ: یونیورسٹیاں دفاعی صنعت سے آ ملیں اور ملک کی سائنسی صلاحیتیں دفاعی ضروریات کے لئے استعمال ہوئیں؛ مقامی ڈرون ڈیزائن کئے گئے، زمینی صنعتیوں کو ترقی ملی، اور بحری شعبے میں ایسے جہاز بنائے گئے جو اب بھی دشمن کی مطلوبہ فارمولوں اور ان کی مطلوبہ ترتیبات کو درہم برہم کر رہے ہیں۔
بسیج مستضعفین کے سربراہ نے مزید کہا: جو طیارہ بردار جہاز خطے میں آتا ہے، اسے ہماری افواج سے اپنا فاصلہ بڑھانا پڑتا ہے تاکہ زد میں نے آئے، اور امریکی جہاز عام تر سمندر میں انتہائی رفتاری سے نقل و حرکت کرتے ہیں تاکہ نشانہ نہ بنیں۔ یہ صلاحیتیں یونیورسٹی کو فضائی، بحری اور دفاعی صنعتوں سے ہم آہنگی کا نتیجہ ہیں۔
انھوں نے یاد دہانی کرائی: اگر آج ہمارے پاس درست نشانہ بنانے والے میزائل، ڈرون اور دفاعی جہاز ہیں، تو اس لئے کہ یونیورسٹی، استاد اور صنعت ایک ساتھ میدان میں آئے اور ملک کی علمی صلاحیت کو دفاعی طاقت میں تبدیل کیا۔
آج انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کے حکم پر ہر ایرانی ایک بسیجی ہے
حجت الاسلام طائب نے کہا کہ اس اتحاد کا نتیجہ "ایرانی قوم کی برداشت کے مقابلے میں دشمن کی برداشت کی شکست" کی صورت میں نکلا، اور کہا: اس میدان میں امریکی ہار گئے اور ایرانی قوم، عوام اور یونیورسٹیاں جیت گئیں۔
انھوں نے نئے دور میں بسیجی اساتذہ کے کردار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: آج انقلاب اسلامی کے رہبر معظم کے حکم پر ہر ایرانی ایک بسیجی ہے، اور یونیورسٹی میں بھی ہر استاد کو بسیجی ہونا چاہئے۔ آج یونیورسٹی میں ایک محاذ اور ایک اکائی ہے جہاں سب ایک مرکز ـ یعنی دفاعِ وطن ـ کے گرد متحد ہیں۔
بسیج مستضعفین کے سربراہ نے مزید کہا: بسیجِ اساتذہ میں یہ تبدیلی، روشوں اور اہداف میں انقلاب کا باعث بننی چاہئے، اور فتح کے بعد کے دور میں، بسیجِ اساتذہ کو ملک کی ترقی میں پیش پیش ہونا چاہئے۔
حجت الاسلام طائب نے زور دے کر کہا: بسیجِ اساتذہ کو یونیورسٹی میں، مختلف اداروں اور ولی فقیہ کے نمائندوں کے ساتھ تعامل و تعاون کرتے ہوئے، نئے دور میں ملک کی ترقی کی راہ میں مختلف شعبوں میں کردار ادا کرنا چاہئے اور تمام صلاحیتوں کو قومی مزاحمت، آزادی اور ایرانی شناخت کی دفاعی صلاحیتوں کی ترقی کے لئے استعمال کرنا چاہئے۔
ایرانی آزادی اور شناخت و تشخص دنیا میں عروج پر
انھوں نے کہا کہ ایرانی آزادی اور شناخت و تشخص دنیا میں عروج پر ہے؛ اب ہمیں نظام کی افادیت اور کارگُزاری کی تشکیل و ترتیب کو تیز کرنا ہے، اور اس کارکردگی کی شرط، سائنسی میدان میں ترقی اور حکمرانی کے اصولوں کو سائنسی و علمی ترقی سے ہم آہنگ کرنا ہے۔
بسیج مستضعفین کے سربراہ نے مزید کہا: بسیجِ اساتذہ کو اس میدان میں پیش پیش ہونا چاہئے اور نئے دور میں تمام اساتذہ کی ہمت و کوشش سے، ـ ہر وہ شخص جس کا دل وطن کے دفاع کے لیے دھڑکتا ہے، ـ اس میدان میں حاضر ہونا چاہئے۔
حجت الاسلام و المسلمین طائب نے آخر میں یاد دہانی کرائی: ہمیں امید ہے کہ اس سال یونیورسٹی میں ہمارا داخلہ عالمی استکبار، امریکہ اور اسرائیل کے خلاف فتح کی تقریب کے ساتھ ہو، اور یونیورسٹی کا ماحول تیزی سے سائنس کی پیداوار اور عالم و سائنسدان کی تربیت کی طرف بڑھے؛ جیسا کہ انقلاب اسلامی کے رہبر معظم نے عالم و سائنسدان کی تربیت اور سائنس کی کی پیداوار (Science production) پر تاکید کی ہے، اور یہ دونوں اسلامی انقلاب کے اہداف کے مطابق ہونے چاہئیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ