اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، نیویارک ٹائمز نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ سیریک کے علاقے کوہستک میں شادی کی تقریب پر امریکی فضائی حملے کے بعد ملنے والے ہتھیاروں کے ملبے کے تجزیے سے معلوم ہوتا ہے کہ حملے میں استعمال ہونے والے بم امریکی ساختہ تھے۔
رپورٹ کے مطابق اخبار نے حملے کے بعد ریکارڈ کی گئی ویڈیوز میں موجود ہتھیاروں کے ملبے کا جائزہ لیا اور انہیں امریکی فوج کے سابق بم ڈسپوزل ماہر اور ہتھیاروں کے تجزیہ کار ٹریور بال کے ساتھ شیئر کیا۔
ٹریور بال نے ان باقیات کو ایک گائیڈڈ بم کے اجزا قرار دیا اور کہا کہ یہ ایسا ہتھیار ہے جسے امریکی سینٹرل کمانڈ استعمال کرتی ہے، جبکہ ایرانی فورسز کے زیرِ استعمال نہیں ہے۔
یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب سینٹکام کے ترجمان ٹم ہاکنز اس سے قبل کہہ چکے ہیں کہ امریکی فوج کبھی شہریوں کو نشانہ نہیں بناتی۔
نیویارک ٹائمز کے مطابق سینٹکام کی جانب سے جاری کی گئی ایک ویڈیو میں بھی ایک امریکی لڑاکا طیارے کے پروں کے نیچے JSOW بم نصب دکھائی دیتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ جاری بیان میں ایران کے مختلف اہداف پر حملوں کا ذکر کیا گیا تھا۔
آپ کا تبصرہ