23 اگست 2026 - 19:03
پہلی قسط | حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات بھی بنی‌اسرائیل پر اثر نہ کر سکیں

حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) نے روشن نشانیوں اور اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت کے ساتھ بنی اسرائیل کو 'حق تسلیم کرنے' کی دعوت دی، مگر ان میں سے ایک گروہ نے اس دعوت کو قبول کرنے کے بجائے اس کا انکار کیا اور حتیٰ کہ اللہ کے اس نبی پر جادوگری کا الزام لگایا۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ قرآن کریم کی سورہ صف کی آیات 6 سے 14، ایمان اور عمل کے درمیان سچائی اور ہم‌آہنگی کی ضرورت کے بیان کے سلسلے میں، دعوتِ الٰہیہ کی تاریخ کے اہم ترین موضوعات میں سے ایک پر روشنی ڈالتی ہیں؛ پیغمبروں کا 'مخالفین کی تکذیب، تحریف اور دشمنی' کا سامنا کرنا، اور بالآخر 'راہِ حق کی فتح' کا وعدہ دینا۔

علامہ طباطبائی نے تفسیر المیزان میں ان آیات کو سنتِ الٰہیہ کی ترجمانی قرار دیا ہے جو ہر دور میں دہرائی جا سکتی ہے: حقیقت آشکار ہوتی ہے، ایک گروہ اسے قبول کرتا ہے اور دوسرا گروہ اسے بجھانے کی کوشش کرتا ہے، مگر بالآخر اللہ کا ارادہ حق کی فتح پر قائم ہوکر رہ جاتا ہے۔

وہ بشارت جس پر عیسیٰ (علیہ السلام) نے تصریح کی

آیت 6 حضرت عیسیٰ (علیہ السلام) کے اس قول کی یاد دہانی سے شروع ہوتی ہے: "يَا بَنِي إِسْرَائِيلَ إِنِّي رَسُولُ اللَّهِ إِلَيْكُمْ؛ (اے بنی اسرائیل ! میں اللہ کا بھیجا ہؤا ہوں ۔۔۔)"؛ عیسیٰ (علیہ السلام) خود کو خدا کا بھیجا ہؤا رسول قرار دیتے ہیں اور پھر اپنے بعد آنے والے نبی کی بشارت دیتے ہیں: "وَمُبَشِّرًا بِرَسُولٍ يَأْتِي مِنْ بَعْدِي اسْمُهُ أَحْمَدُ؛ اور خوش خبری دیتا ہؤا ایک پیغمبر کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہو گا"۔

یہ تعبیر بتاتی ہے کہ پیغمبر اسلام (صلی اللہ علیہ و آلہ) کی رسالت اللہ کے پیغمبروں کے ایک ہی سلسلے کا امتداد و تسلسل ہے اور ان کی دعوت کوئی ماضی سے منقطع امر نہیں ہے۔ "احمد" کے معنی ہیں وہ فرد جس کی سب سے زیادہ تعریف کی گئی ہو۔ تاہم، جب وہ موعود نبی "البینات" (روشن دلائل) کے ساتھ تشریف لائے، تو مخالفین میں سے کچھ کا ردعمل یہ تھا: "هَذَا سِحْرٌ مُبِينٌ؛ (یہ کھلا ہؤا جادو ہے)"؛ یعنی ان لوگوں نے حقیقت قبول کرنے کے بجائے اسے جادو قرار دے دیا۔

جب حقیقت کا انکار نہ کر سکیں تو اسے بجھانے کی سازش کرتے ہیں

آیت 8 اس حصے کی صریح ترین تعابیر میں سے ایک پیش کرتی ہے: "يُرِيدُونَ لِيُطْفِئُوا نُورَ اللَّهِ بِأَفْوَاهِهِمْ؛ (وہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے نور کو بجھا دیں اپنے منہ [کی پھونکوں] سے)"؛ آیت کا منظر واضح ہے؛ کچھ لوگ خدا کے نور کو اپنے منہ سے بجھانے کی کوشش کرتے ہیں۔ علامہ سید محمد حسین طباطبائی اس تعبیر کی وضاحت میں "نور خدا" سے مراد 'ہدایت' اور 'اللہ کے دین کی حقیقت' قرار دیتے ہیں؛ ایسی حقیقت جس کا وجود مخالفین کی مرضی اور تشہیری مہمات (Propaganda Campaign) پر منحصر نہیں ہے۔

اہم نکتہ یہ ہے کہ آیت یہ نہیں کہتی کہ وہ اللہ کے نور [پھونکوں سے] بجھا بھی سکتے ہیں، بلکہ صرف ان کے "ارادے"، کوشش اور عزائم کی طرف اشارہ کرتی ہے۔ نتیجہ فوراً واضح ہو جاتا ہے: "وَاللَّهُ مُتِمُّ نُورِهِ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ؛ (اور اللہ اپنے نور کو کمال کی منزل تک پہنچانے والا ہے، چاہے کافر لوگ ناپسند ہی کیوں نہ کریں)"؛ یعنی انسانی ارادہ الٰہی ارادے کے مد مقابل آتا تو ہے، مگر اس میں خدا کے وعدے کی تکمیل کو روکنے کی طاقت ہرگز نہیں ہے۔

فتح کا وعدہ دین حق کے پاس ہے

آیت 9 ایک بار پھر رسالت کا مقصد بیان کرتی ہے: "هُوَ الَّذِي أَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدَى وَدِينِ الْحَقِّ لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ؛ (وہ وہ ہے جس نے اپنے پیغمبر کو بھیجا رہنمائی اور حقیقت والے دین کے ساتھ، کہ اسے ہر دین پر غالب کر دے؛ چاہے مشرک لوگوں کو ناپسند ہی کیوں نہ ہو)"۔ تفسیر المیزان کی نگاہ میں یہاں "اظہار (لِيُظْهِرَهُ)" کا مطلب ہے حجت اور دینِ حق کو آشکار کرنا اور دوسرے باطل راستوں پر اسے غالب کرنا۔

آیات کا یہ حصہ مسئلے کو محض تاریخی تنازع سے آگے بڑھاتا ہے؛ حق کو، قائم رہنے کے لئے، باطل کی اجازت کی ضرورت نہیں۔ ہو سکتا ہے وہ کسی مرحلے پر مخالفت، دباؤ یا حق کی تحریف کا شکار ہو؛ مگر سنتِ الٰہیہ یہ ہے کہ حقیقت بالآخر آشکار ہو جاتی ہے۔

پہلی قسط | حضرت عیسیٰ(علیہ السلام) کی تعلیمات بھی بنی‌اسرائیل پر اثر نہ کر سکیں

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

تحریر: مہدی احمدی

ترجمہ: ابو فروہ

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha