بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ ، برازیل اور ریال میڈرڈ کے افسانوی فٹ بالر رابرٹو کارلوس کا نام گذشتہ 24 گھنٹوں میں اسلامی ممالک کی سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بن گیا، اور اس وسیع پیمانے پر توجہ کی وجہ ریال میڈرڈ کے سابق اسٹار کے "مسلمان ہونے" کی افواہ تھی۔ لیکن کیا یہ خبر قابل اعتماد ہے یا نہیں؟
ذیل کی رپورٹ میں اس معاملے کو واضح کیا گیا ہے:
اس افواہ کی جڑ 'ترکیہ'
ترک میڈیا کے جائزے سے پتہ چلتا ہے کہ خبروں کا سلسلہ ترکیہ سے شروع ہؤا، خاص طور پر ترک پارلیمنٹ میں جسٹس اینڈ ڈویلپمنٹ پارٹی کے رکن علی شاہین کے بیانات سے۔
شاہین نے 18 اگست 2026 کو اپنے ایکس اکاؤنٹ پر اعلان کیا کہ ساؤ پاؤلو کے دورے کے دوران ان کی ملاقات برازیل کی مسلم کمیونٹی کے ارکان سے ہوئی، اور شیخ جہاد حمادہ نے انہیں بتایا کہ رابرٹو کارلوس تقریباً چار ہفتے قبل ان کے پاس آئے، اور شہادتین پڑھ کر اسلام قبول کر لیا۔
سب سے پہلے ترکیہ کے سرکاری ذریعے ميں اشاعت
Haberler.com ویب سائٹ ان پہلے ذرائع میں سے ایک تھی جس نے یہ دعویٰ شائع کر دیا۔
اس ترک میڈیا نے یہ خبر 18 اگست 2026 کو ترکی کے مقامی وقت کے مطابق 15:23 پر "رابرٹو کارلوس مسلمان ہو گئے" کے عنوان سے شائع کی۔ اسی رپورٹ میں خبر کا ماخذ علی شاہین کی پوسٹ بتائی گئی، اور شیخ جہاد حمادہ کے دعوے کا متن بھی دوبارہ شائع کیا گیا۔
افواہ کا ہاتھوں ہاتھ پھیل جانا اور سوشل میڈیا پر ٹرینڈ بننا
Haberler کی ابتدائی رپورٹ کے چند منٹ بعد، اس کے انگریزی شعبے نے بھی 15:30 پر یہ خبر شائع کی۔
اس کے بعد یہ خبر ترکیہ کے میڈیا اور پھر انڈونیشیا اور عرب ممالک جیسے بین الاقوامی ذرائع میں گردش کرنے لگی، یہاں تک کہ سوشل نیٹ ورکس پر "رابرٹو کارلوس مسلمان ہو گئے" کے دعوے کے ساتھ ٹرینڈ بن گئی۔
کارلوس کے مسلمان ہونے کی خبر ان کی حالیہ شادی کی تقریب کے ساتھ ہم آہنگ ہو گئی، جو سہیلا طاہری سے ہوئی تھی، اور اسی وجہ سے یہ افواہ سوشل میڈیا پر بہت تیزی سے پھیلی۔ تاہم، کسی مسلمان خاتون سے شادی کرنا خود بخود ان کے مذہب کی تبدیلی کا ثبوت نہیں ہے۔
کارلوس کے مسلمان ہونے کی کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی
ابھی تک خود رابرٹو کارلوس کی جانب سے اس خبر کی کوئی سرکاری تصدیق سامنے نہیں آئی۔ حتیٰ کہ جن ذرائع ابلاغ نے یہ خبر شائع کی، انہوں نے اپنے متن میں "دعویٰ کیا گیا ہے"، "رپورٹ کیا گیا ہے" اور "ابھی تک توثیق نہیں ہوئی" جیسے الفاظ استعمال کئے ہیں۔ مثال کے طور پر، Goal نے بھی صاف طور پر لکھا کہ یہ خبر رابرٹو کارلوس کی توثیق کا انتظار کر رہی ہے۔
دوسری طرف، نقل کرنے والے ذرائع نے بھی یہی سلسلہ دہرایا، اور حمادہ کے دعوے کے علاوہ (جو خود شاہین کے حوالے سے تھا) اس معاملے کی تصدیق کے لئے کسی آزاد ذریعے کا حوالہ نہیں دیا گیا، جس کی وجہ سے یہ خبر افواہ ہی کی حد تک رہ گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ