12 اگست 2026 - 18:35
مآخذ: ابنا
حماس: مسجد ابراہیمی کی بندش عبادت کی آزادی اور اسلامی مقدسات کی توہین ہے

فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے الخلیل میں مسجد ابراہیمی کو نمازیوں اور زائرین کے لیے بند کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عبادت کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی اور اسلامی مقدسات کی بے حرمتی قرار دیا ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، فلسطینی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس نے الخلیل میں مسجد ابراہیمی کو نمازیوں اور زائرین کے لیے بند کیے جانے کی شدید مذمت کرتے ہوئے اسے عبادت کی آزادی کی کھلی خلاف ورزی اور اسلامی مقدسات کی بے حرمتی قرار دیا ہے۔

حماس نے بدھ کے روز جاری ایک بیان میں کہا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے مسجد ابراہیمی کو بند کرنا انتہائی خطرناک اقدام ہے، جس کے سنگین نتائج برآمد ہو سکتے ہیں۔ تحریک کے مطابق یہ اقدام فلسطینی سرزمین کی شناخت تبدیل کرنے، مغربی کنارے کے الحاق اور اس کی یہودی آبادکاری کو تیز کرنے کی اسرائیلی پالیسی کا حصہ ہے۔

بیان میں کہا گیا کہ مسجد ابراہیمی فلسطینی عوام اور پوری امتِ مسلمہ کی مذہبی، قومی اور تاریخی شناخت کا ناقابلِ تقسیم حصہ ہے۔ مسجد کی تقسیم یا اس پر اسرائیلی حاکمیت مسلط کرنے کی ہر کوشش قانونی، دینی اور تاریخی اعتبار سے ناقابلِ قبول ہے۔

حماس نے الخلیل اور مغربی کنارے کے دیگر علاقوں کے عوام سے اپیل کی کہ وہ مسجد ابراہیمی کے اطراف اپنی مسلسل اور بھرپور موجودگی برقرار رکھیں اور مقدسات کے خلاف پابندیوں، یہودی آبادکاری اور مسلسل حملوں کے خلاف مزاحمت کریں۔

تحریک نے عرب اور مسلم دنیا کے حکومتی و عوامی حلقوں سے بھی مطالبہ کیا کہ وہ اپنی تاریخی اور دینی ذمہ داری پوری کرتے ہوئے فوری اور مؤثر اقدامات کریں اور مسجد ابراہیمی، مسجد اقصیٰ سمیت دیگر اسلامی مقدسات کے خلاف جاری اقدامات کو روکنے کے لیے کردار ادا کریں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha