اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، روس نے آبنائے ہرمز کی صورتحال کے حوالے سے امریکی مؤقف پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ واشنگٹن کی منطق سمجھ میں نہیں آتی۔
روس کے ویانا میں عالمی اداروں کے مستقل نمائندے میخائل اولیانوف نے امریکی نائب صدر جے ڈی وینس کے آبنائے ہرمز سے متعلق بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ امریکہ ایک طرف اس اہم آبی گزرگاہ میں آزادانہ بحری آمدورفت کا مطالبہ کر رہا ہے، لیکن دوسری جانب ایران کے خلاف امریکی فوجی کارروائیوں ہی نے اس صورتحال کو متاثر کیا ہے۔
اولیانوف نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر لکھا کہ آبنائے ہرمز میں بحری آمدورفت کی آزادی کے بارے میں واشنگٹن کا مؤقف تضاد کا شکار ہے۔
روسی سفارت کار کے مطابق امریکہ نے ایران کے خلاف کارروائی کرکے ایک ایسی صورتحال پیدا کی جس کے نتیجے میں آبنائے ہرمز میں معمول کی بحری سرگرمیاں متاثر ہوئیں۔ اب واشنگٹن اس مسئلے کے اثرات ختم کرنے کے لیے جنگ جاری رکھنے کی کوشش کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ اپنی ’’اسٹریٹجک غلطی‘‘ کے نتائج کو مزید فوجی کارروائی کے ذریعے دور کرنے کی کوشش کر رہا ہے، جو سمجھ سے بالاتر ہے۔
اولیانوف نے آخر میں طنزیہ انداز میں کہا کہ اس معاملے میں ’’کہیں نہ کہیں کچھ گڑبڑ ضرور ہے۔
آپ کا تبصرہ