بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ مجلس شورائے اسلامی (پارلیمان) میں رباط کریم اور بہارستان کے نمائندے، ڈاکٹر حسن قشقاوی، نے نامہ نگاروں سے بات چیت کرتے ہوئے مجلس کے قومی سلامتی اور خارجہ پالیسی کمیشن کے اجلاس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا: اس اجلاس میں آبنائے ہرمز میں سلامتی اور پائیدار ترقی کے لیے اسٹراٹٹیجک ایکشن کے منصوبے کی تفصیلات کا جائزہ جاری رکھنا کمیشن کے ایجنڈے پر تھا۔
انھوں نے کہا: اس منصوبے کی شق نمبر 9 کے مطابق، کوئی بھی ملک یا حقیقی اشخاص (Individual) اور یا قانونی اشخاص (ادارے اور کمپنیاں = Legal persons)،
جو اسلامی جمہوریہ ایران کے خلاف یکطرفہ پابندیاں عائد کریں یا معاندانہ اقدامات کریں، انہیں 'آبنائے ہرمز سے گذرنے پر ممانعت' کے ضابطے میں شامل کیا جائے گا۔
انھوں نے کہا: اس قانون میں، معاندانہ اقدامات کی تشخیص کا ذمہ مسلح افواج کے جنرل اسٹاف کی اہلکاروں کے سپرد ہوگا۔
ڈاکٹر حسن قشقاوی نے مزید کہا: علاوہ ازیں، ان ممالک، اداروں، کمپنیوں اور انسٹی ٹیوشنز کی تشخیص ـ جنہوں نے اسلامی جمہوریہ ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں یا ایران کے اثاثے منجمد کئے ہیں، اعلیٰ قومی سلامتی کونسل کے ذمے ہوگی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ