اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ یہ بل ری پبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم کے نام سے موسوم ہے، جو اسرائیل کے حامی امریکی سینیٹر تھے اور گزشتہ ماہ اچانک انتقال کرگئے تھے۔
بل میں روس کے اعلیٰ حکام، ملک کے بڑے کاروباری شخصیات اور روسی سرکاری کمپنیوں پر پابندیاں عائد کرنے کی تجاویز شامل ہیں۔ روس کی دفاعی صنعت کو معاونت فراہم کرنے والی غیر ملکی کمپنیاں بھی حتمی منظوری کی صورت میں امریکی پابندیوں کی زد میں آسکتی ہیں۔
یہ بل ایک سال سے زائد عرصے تک جاری رہنے والے مذاکرات کے بعد سینیٹ میں دونوں بڑی جماعتوں کی حمایت سے منظور کیا گیا ہے۔
روس سے تیل خریدنے والے ممالک پر 100 فیصد تک محصولات
بل کی اہم شقوں میں روسی خام تیل اور قدرتی گیس خریدنے والے بڑے ممالک کی اشیا پر 100 فیصد تک اضافی درآمدی محصولات عائد کرنے کی اجازت دینا شامل ہے۔ چین اور بھارت ان ممالک میں شامل ہیں جو اس اقدام سے متاثر ہوسکتے ہیں۔
مجوزہ قانون کے تحت ان محصولات کی حتمی شرح امریکی تجارتی نمائندے جیمیسن گریئر طے کریں گے۔
تاہم وہ ممالک جو روس کی مجموعی قدرتی گیس برآمدات میں 15 فیصد سے کم حصہ رکھتے ہیں اور روسی گیس پر انحصار نمایاں طور پر کم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، ان اضافی محصولات سے مستثنیٰ ہوسکتے ہیں۔
ٹرمپ نے پہلے بل روکنے کی ہدایت کی تھی
یہ بل اس سے قبل بھی سینیٹ میں منظوری کے قریب پہنچ چکا تھا، تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے ری پبلکن سینیٹرز سے کہا تھا کہ وہ اس کی منظوری مؤخر کریں تاکہ ان کی حکومت کو ولادیمیر پوتن پر دباؤ بڑھانے کی اپنی پالیسی جاری رکھنے کے لیے مزید وقت مل سکے۔
بل کے ابتدائی مسودے میں ان ممالک پر 500 فیصد تک محصولات عائد کرنے کی تجویز شامل تھی جو روس سے تیل اور گیس کی خریداری جاری رکھتے ہیں، تاہم نئے مسودے میں پابندیوں کا دائرہ محدود کردیا گیا ہے۔
سینیٹ سے منظوری کے باوجود اس بل کا حتمی مستقبل ابھی واضح نہیں۔ اسے قانون کی شکل اختیار کرنے کے لیے امریکی ایوانِ نمائندگان سے منظوری اور اس کے بعد دیگر قانونی مراحل سے گزرنا ہوگا۔
آپ کا تبصرہ