اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، صہیونی حکومت کے چینل 15 کے فوجی تجزیہ کار یوسی یہوشع نے امریکا میں شائع ہونے والی رپورٹس کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ دفاعی اور حملہ آور میزائلوں کی قلت نے ایران کے خلاف ممکنہ فوجی کارروائیوں کے حوالے سے اسرائیل کی آپریشنل صلاحیت کو متاثر کیا ہے۔
ان کے بقول، یہ مسئلہ اس وقت تل ابیب کی عسکری منصوبہ بندی کے سامنے درپیش اہم چیلنجز میں سے ایک بن چکا ہے۔
دوسری جانب، صہیونی حکومت کے سکیورٹی ادارے گزشتہ چند ہفتوں کے دوران متعدد بار دفاعی اور فوجی صلاحیتوں کو مضبوط بنانے کے لیے درکار بجٹ میں کمی پر بھی تشویش کا اظہار کر چکے ہیں، تاہم اس کمی کی تفصیلات یا متاثرہ شعبوں کے بارے میں کوئی معلومات جاری نہیں کی گئیں۔
رپورٹ کے مطابق، صہیونی فوج نے اس سے قبل مارچ 2026ء میں بھی بیلسٹک میزائلوں کے دفاع کے لیے استعمال ہونے والے انٹرسیپٹر میزائلوں کی نمایاں کمی کا اعتراف کرتے ہوئے واشنگٹن کو اس سے آگاہ کیا تھا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ صہیونی حکام کو دوبارہ "جنگ کے لیے غیر تیار فوج" جیسی صورتحال کا سامنا ہونے کا خدشہ بھی بڑھ رہا ہے۔ یہ تشویش 7 اکتوبر 2023ء سے قبل سکیورٹی ناکامیوں سے متعلق جائزوں کے تناظر میں سامنے آئی ہے، جبکہ مبصرین کے مطابق خطے میں جاری کشیدگی کے باعث تل ابیب کے سکیورٹی خدشات مزید گہرے ہو گئے ہیں۔
آپ کا تبصرہ