اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایران کے خلاف جاری کشیدگی اور حملوں کے باعث عالمی منڈی میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے، جس کے نتیجے میں یورپی ممالک کو موسمِ سرما کے لیے گیس کی فراہمی یقینی بنانے میں نئی مشکلات کا سامنا ہے۔
بلومبرگ کی ایک رپورٹ کے مطابق، عالمی سطح پر ایل این جی کے کارگو حاصل کرنے کی بڑھتی ہوئی مسابقت نے یورپ کی اس حکمت عملی کو خطرے میں ڈال دیا ہے، جس کے تحت کئی ممالک آبنائے ہرمز میں صورتحال معمول پر آنے تک موسمِ سرما کے لیے گیس کی خریداری مؤخر کرنا چاہتے تھے۔
رپورٹ کے مطابق گزشتہ موسمِ سرما کے اختتام پر یورپی حکومتوں اور توانائی کمپنیوں کا خیال تھا کہ وہ اپنے اسٹریٹجک گیس ذخائر کی دوبارہ تکمیل کچھ عرصہ مؤخر کر سکتی ہیں، حالانکہ یہ ذخائر 2022 کے بعد اپنی کم ترین سطح پر پہنچ چکے تھے۔ تاہم فروری کے آخر میں ایران سے متعلق جنگی صورتحال کے بعد گیس کی قیمتوں میں تیزی سے اضافے نے بڑی مقدار میں خریداری کو معاشی لحاظ سے مشکل بنا دیا۔
ابتدائی طور پر توانائی کے تاجروں کو امید تھی کہ سفارتی کوششیں کامیاب ہوں گی اور آبنائے ہرمز کے ذریعے ایل این جی کی ترسیل دوبارہ معمول پر آ جائے گی۔ یہ آبی گزرگاہ عالمی ایل این جی سپلائی کے تقریباً پانچویں حصے کی ترسیل کے لیے انتہائی اہم سمجھی جاتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب عالمی منڈی میں ایل این جی کے کارگو حاصل کرنے کے لیے بڑھتی ہوئی مسابقت نے یورپ کی منصوبہ بندی کو متاثر کیا ہے اور خطے کو توانائی کے حوالے سے زیادہ غیر یقینی صورتحال سے دوچار کر دیا ہے۔
تجزیہ کاروں کے مطابق اگرچہ اس وقت ایران اور امریکہ کے درمیان مکمل جنگ جاری نہیں، تاہم مشرقِ وسطیٰ میں کشیدگی کسی بھی وقت دوبارہ بڑھ سکتی ہے۔ ایسی صورت میں توانائی کی قیمتوں میں مزید اضافہ ممکن ہے، جس سے یورپی ممالک کو گیس کی فراہمی اور توانائی کے تحفظ کے حوالے سے پہلے سے زیادہ سنگین چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
آپ کا تبصرہ