اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، رائٹرز نے باخبر ذرائع کے حوالے سے رپورٹ کیا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ آئندہ دنوں میں سعودی عرب کے ساتھ جوہری توانائی کے شعبے میں تعاون کے معاہدے کو امریکی کانگریس کے سامنے پیش کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ ماضی میں واشنگٹن کی جانب سے جوہری مواد کے فوجی استعمال کو روکنے کے لیے مقرر کردہ بعض اہم حفاظتی شرائط کے بغیر ہوگا۔
ذرائع کے مطابق یہ دستاویز ’’سیکشن 123 معاہدے‘‘ کے نام سے جانی جاتی ہے، جس پر امریکی وزیر توانائی کرس رائٹ اور سعودی وزیر توانائی عبدالعزیز بن سلمان دستخط کریں گے۔ یہ معاہدہ امریکی حکومت اور کمپنیوں کو سعودی عرب میں اربوں ڈالر مالیت کے جوہری توانائی کے منصوبے شروع کرنے کے لیے قانونی راستہ فراہم کرے گا۔
یورینیم افزودگی پر پابندی ختم ہونے کا خدشہ
رائٹرز کے مطابق اس معاہدے میں وہ شرط شامل نہیں ہوگی جسے امریکہ کی سابقہ پالیسی میں ’’گولڈ اسٹینڈرڈ‘‘ کہا جاتا تھا۔ اس شرط کے تحت جوہری تعاون حاصل کرنے والے ممالک کو یورینیم افزودگی اور استعمال شدہ ایندھن کی دوبارہ تیاری سے روکا جاتا تھا، کیونکہ یہ دونوں عمل جوہری ہتھیار بنانے کی صلاحیت حاصل کرنے کا ذریعہ بن سکتے ہیں۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ نئے معاہدے میں اضافی پروٹوکول بھی شامل نہیں ہوگا، جس کے ذریعے عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی (آئی اے ای اے) کو کسی ملک کی جوہری تنصیبات کے وسیع، اچانک اور سخت معائنے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔
سعودی جوہری عزائم پر عالمی تشویش
یہ معاہدہ ایسے وقت میں سامنے آ رہا ہے جب سعودی ولی عہد محمد بن سلمان پہلے کہہ چکے ہیں کہ اگر ایران جوہری ہتھیار حاصل کرتا ہے تو سعودی عرب بھی فوری طور پر اس سمت میں قدم اٹھائے گا۔
رپورٹ کے مطابق اس بیان نے امریکہ میں جوہری ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے کے حامی حلقوں میں تشویش پیدا کی ہے۔
واضح رہے کہ متعدد امریکی ڈیموکریٹس اور موجودہ امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی، جب وہ سینیٹر تھے، سعودی عرب کے ساتھ کسی بھی جوہری معاہدے میں سخت حفاظتی اقدامات شامل کرنے پر زور دیا تھا۔
کانگریس میں جائزے کا عمل
رپورٹ کے مطابق معاہدہ کانگریس میں پیش کیے جانے کے بعد قانون سازوں کے پاس تقریباً 90 دن ہوں گے کہ وہ اس کا جائزہ لیں۔
اگر کانگریس معاہدے کو روکنا چاہے تو اسے ایک مشترکہ قرارداد منظور کرنا ہوگی، جسے ممکنہ صدارتی ویٹو کو ختم کرنے کے لیے ایوان نمائندگان اور سینیٹ دونوں میں دو تہائی اکثریت درکار ہوگی۔
رائٹرز کے مطابق امریکی محکمہ توانائی اور وائٹ ہاؤس نے اس معاملے پر تبصرہ کرنے کی درخواست کا تاحال جواب نہیں دیا۔
آپ کا تبصرہ