اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، لبنانی صحافی حسن علیق کی گرفتاری کے لیے استغاثہ کی جانب سے جاری کیے گئے حکم کے بعد لبنان میں آزادیِ صحافت اور اظہارِ رائے کی صورتحال پر بحث تیز ہو گئی ہے۔
رپورٹس کے مطابق، حسن علیق کے خلاف کارروائی سعودی عرب کے بارے میں سوشل میڈیا پر تنقیدی مواد شائع کرنے کے بعد شروع ہوئی۔ صحافی نے اس قانونی کارروائی کو مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ قانون کے مطابق صحافیوں سے متعلق مقدمات کی سماعت پریس عدالت میں ہونی چاہیے، جبکہ ان کے خلاف عدالتی اقدام سیاسی پس منظر رکھتا ہے۔
حسن علیق نے لبنانی حکومت کی کارکردگی پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ ملک میں آزادیِ اظہار کو بڑھتی ہوئی پابندیوں کا سامنا ہے اور تنقیدی آوازوں کو خاموش کرنے کے لیے عدالتی ذرائع کا استعمال بڑھ رہا ہے۔
انہوں نے اپنے مقدمے کو لبنان کی موجودہ سیاسی صورتحال، اسرائیلی حکومت اور بعض علاقائی ممالک سے متعلق حکومتی پالیسیوں کے تناظر میں قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ ناقدین کے خلاف پابندیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔
دوسری جانب لبنان کے سابق وزیر اطلاعات جورج قرداحی نے حسن علیق سے اظہارِ یکجہتی کرتے ہوئے کہا ہے کہ آزادیِ رائے اور اظہارِ خیال لبنان کے آئین اور پریس قوانین کے تحت محفوظ ہیں۔
انہوں نے صحافیوں اور مدیران کی تنظیموں سے مطالبہ کیا کہ وہ میڈیا سے وابستہ افراد کے قانونی حقوق کے تحفظ کے لیے اپنا کردار ادا کریں اور صحافتی مقدمات کو پریس قوانین کے مطابق نمٹانے پر زور دیں۔
آپ کا تبصرہ