اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ایرانی فوج کے ترجمان امیر اکرمی نیا نے کہا ہے کہ جنگ کو اس مرحلے تک جاری رکھنا ضروری ہے جہاں ایران مؤثر دفاعی صلاحیت حاصل کر لے۔ ان کے بقول یہ فیصلہ جذبات یا جنگ پسندی پر نہیں بلکہ عقل، تجربے اور قومی سلامتی کے تقاضوں پر مبنی ہے۔
امیر اکرمی نیا نے بری فوج کے ثقافتی کارکنوں سے خطاب کرتے ہوئے ایرانی عوام کی جانب سے قومی سطح پر اظہارِ یکجہتی اور دشمن کی نرم و ہائبرڈ جنگ کا مقابلہ کرنے کی کوششوں کو سراہا۔
انہوں نے کہا کہ اگر ایران مطلوبہ دفاعی بازدارندگی حاصل کیے بغیر جنگ روک دیتا ہے تو دشمن غلط اندازے لگا کر مستقبل میں دوبارہ ایران پر حملہ آور ہو سکتا ہے۔ ان کے مطابق اسی لیے جنگ کا تسلسل کسی جذباتی ردِعمل یا جنگی جنون کا اظہار نہیں بلکہ ایک سوچا سمجھا اور عقلی فیصلہ ہے۔
ایرانی فوج کے ترجمان نے اپنی گفتگو میں خلیج فارس کے بعض جنوبی ممالک پر بھی تنقید کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ ممالک برسوں سے آبنائے ہرمز کی بدولت اربوں ڈالر کی تیل تجارت اور تجارتی سرگرمیوں سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں، لیکن اب وہ ایران کے خلاف کارروائیوں میں امریکہ کا ساتھ دے رہے ہیں، جو نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی قابل قبول۔
امیر اکرمی نیا نے مزید کہا کہ آبنائے ہرمز پر کنٹرول ایران کی مسلح افواج کے پاس ہے، اس لیے جو ممالک امریکی کارروائیوں میں تعاون کر رہے ہیں انہیں مستقبل میں اس آبی گزرگاہ سے گزرنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
انہوں نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ایران ہرگز یہ اجازت نہیں دے گا کہ آبنائے ہرمز کے ذریعے ایسا عسکری سامان منتقل کیا جائے جو بعد میں ایرانی عوام کے خلاف استعمال ہو۔
آپ کا تبصرہ