15 جولائی 2026 - 17:31
امریکی عوام میں ایران کے خلاف جنگ غیر مقبول، کانگریس تنازع ختم کرنے میں کردار ادا کر سکتی ہے: امریکی تجزیہ کار

واشنگٹن: امریکی تھنک ٹینک "کونسل آن فارن ریلیشنز" کے سینئر ماہر برائے ایران و مشرقِ وسطیٰ رے تکیہ نے کہا ہے کہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت ختم ہونے کے باوجود اس کی بحالی کا امکان موجود ہے، کیونکہ دونوں ممالک خلیج فارس میں بحری آمدورفت کی بحالی میں مشترکہ مفادات رکھتے ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ایران کے خلاف جنگ امریکی عوام اور کانگریس میں غیر مقبول ہے، لہٰذا کانگریس اس تنازع کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔

اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، امریکی تھنک ٹینک "کونسل آن فارن ریلیشنز" کی ویب سائٹ نے سینئر تجزیہ کار رے تکیہ کے حوالے سے لکھا ہے کہ اگرچہ تہران اور واشنگٹن کے درمیان مفاہمتی یادداشت فی الحال ختم ہو چکی ہے، تاہم اسے دوبارہ بحال کیا جا سکتا ہے۔

رے تکیہ کے مطابق ایران اور امریکہ دونوں خلیج فارس میں بحری تجارت اور جہاز رانی کی بحالی میں مفاد رکھتے ہیں۔ ایران اپنی تیل کی برآمدات سے فائدہ اٹھاتا ہے، جبکہ امریکہ بھی عالمی منڈیوں اور اپنی معیشت کے استحکام کا خواہاں ہے۔ ان کے بقول دونوں ممالک اس وقت "ارادوں کی جنگ" میں مصروف ہیں، لیکن وہ اب بھی کسی تیسرے فریق کی ثالثی قبول کرنے پر آمادہ ہو سکتے ہیں، جس سے تنازع کے خاتمے اور سابقہ مفاہمت کے بعض نکات کی بحالی کی راہ ہموار ہو سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ متنازع مفاہمتی یادداشت کے ایک حصے سے ظاہر ہوتا ہے کہ ایران آبنائے ہرمز سے گزرنے والے جہازوں پر محصولات وصول کرنے کے معاملے میں سنجیدہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ خلیج فارس میں تمام بحری آمدورفت اس کے اختیارات کے دائرے میں ہونی چاہیے، جبکہ امریکہ کی جانب سے عمان کی سرحد کے قریب جنوبی بحری راستے سے بعض جہازوں کی اسکورٹنگ پر تہران نے اعتراض کیا تھا۔ ان کے مطابق یہی معاملہ آئندہ کسی ممکنہ سمجھوتے کی بنیاد بن سکتا ہے اور بڑے بحران کو ٹالنے میں مدد دے سکتا ہے۔

رے تکیہ نے مزید دعویٰ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ نے اپنے اہداف محدود کر دیے ہیں اور ایران میں حکومت کی تبدیلی کا معاملہ پس منظر میں چلا گیا ہے۔ ان کے مطابق اگرچہ جوہری مسئلہ اب بھی موجود ہے، تاہم خلیج فارس ایران کی اولین ترجیح ہونے کے باعث اس حوالے سے بھی حل کی گنجائش موجود ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس وقت وائٹ ہاؤس کو پہلے سے کہیں زیادہ واضح حکمتِ عملی کی ضرورت ہے، کیونکہ ایران کے خلاف جنگ امریکی عوام، ڈیموکریٹک پارٹی اور متعدد امریکی ذرائع ابلاغ میں غیر مقبول ہے۔ ان کے مطابق ٹرمپ انتظامیہ جنگ کے مقاصد اور محرکات کی وضاحت کرنے میں ناکام رہی ہے، جبکہ مسلسل بدلتے ہوئے بیانات اور مبالغہ آمیز دعووں نے امریکہ کی ساکھ کو نقصان پہنچایا ہے۔

امریکی تجزیہ کار نے اس بات پر بھی زور دیا کہ کانگریس، جو آئینی طور پر اہم اختیارات رکھتی ہے، اس جنگ میں اپنا مؤثر کردار ادا کر سکتی ہے۔ ان کے مطابق اگر کانگریس سماعتی اجلاس منعقد کرے اور حکومت کے تزویراتی اہداف کا تفصیلی جائزہ لے تو اس جنگ کے نقصانات اور فوائد زیادہ واضح ہو سکتے ہیں، اور ممکن ہے کہ اسی عمل کے ذریعے امریکہ اس تنازع سے نکلنے کا کوئی قابلِ عمل راستہ تلاش کر لے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha