26 جون 2026 - 16:07
عبدالملک الحوثی کی اسرائیل کو وارننگ، صومالی لینڈ میں صہیونی موجودگی ہرگز برداشت نہیں کریں گے

انصار اللہ یمن کے رہنما سید عبدالملک الحوثی نے خبردار کیا ہے کہ صہیونی رژیم اگر صومالی لینڈ میں اپنا اڈہ قائم کرنے کی کوشش کرے گی تو یمن خاموش نہیں رہے گا اور ہر ممکن ذریعے سے اس کا مقابلہ کرے گا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، انصار اللہ یمن کے رہنما سید عبدالملک الحوثی نے عاشورائے حسینی کے موقع پر اپنے خطاب میں کہا کہ دشمن صہیونی صومالی لینڈ کو خلیج عدن اور باب المندب میں اپنا فوجی اڈہ بنا کر بحیرۂ احمر پر تسلط حاصل کرنا چاہتا ہے، لیکن یمن اس منصوبے کے سامنے ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر نہیں بیٹھے گا۔

انہوں نے کہا کہ یمنی قوم امتِ مسلمہ کے بنیادی مسائل، خصوصاً مسئلہ فلسطین، پر ثابت قدم ہے اور اپنے موقف سے ہرگز پیچھے نہیں ہٹے گی۔

سید عبدالملک الحوثی نے ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمتی یادداشت کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ ایران کی کامیابی صرف ایران کی نہیں بلکہ پورے محورِ مقاومت اور امتِ مسلمہ کی ایک اہم کامیابی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ محورِ جہاد و مقاومت کے تمام فریق ایک دوسرے کے ساتھ مسلسل رابطے اور ہم آہنگی میں ہیں، اور اگر غزہ سمیت کسی بھی محاذ پر دشمن کی جانب سے نئی جارحیت کی گئی تو اپنے اسلامی فریضے کی ادائیگی میں کوئی تردد نہیں کریں گے۔

انصار اللہ کے رہنما نے کہا کہ وہ صومالی لینڈ میں صہیونی رژیم کی سرگرمیوں پر مسلسل نظر رکھے ہوئے ہیں، جس کا مقصد خلیج عدن، باب المندب اور بحیرۂ احمر پر غلبہ حاصل کرنا ہے۔

انہوں نے امتِ مسلمہ اور بحیرۂ احمر سے متصل ممالک پر زور دیا کہ وہ اس منصوبے کو ناکام بنانے کے لیے مشترکہ مؤقف اختیار کریں۔ انہوں نے خبردار کیا کہ اگر صہیونی رژیم نے صومالی لینڈ میں کسی بھی قسم کی موجودگی قائم کی تو انصار اللہ تمام ممکنہ ذرائع استعمال کرتے ہوئے اس کا مقابلہ کرے گی اور کسی ہچکچاہٹ کا مظاہرہ نہیں کرے گی۔

سید عبدالملک الحوثی نے اسلامی حکومتوں سے مطالبہ کیا کہ وہ صومالیہ کے حالات پر توجہ دیں، اس کے عوام کی حمایت کریں اور صہیونی منصوبوں کا راستہ روکیں، کیونکہ یہ صرف صومالیہ کی خودمختاری ہی نہیں بلکہ تمام اسلامی ممالک کی سلامتی کے لیے بھی خطرہ ہیں۔

انہوں نے داخلی صورتحال پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ یمنی عوام امریکہ اور سعودی عرب کی جانب سے جاری جارحیت، قبضے اور محاصرے کو کبھی قبول نہیں کریں گے اور اپنی آزادی، خودمختاری، قومی وسائل اور جائز حقوق کے حصول کے لیے تمام قانونی اور مشروع ذرائع بروئے کار لاتے رہیں گے۔ انہوں نے اس مؤقف کی حمایت میں ہونے والے عوامی اور قبائلی اجتماعات کو بھی سراہا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha