اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، اسرائیلی فوج نے جمعہ کے روز اعلان کیا ہے کہ جنوبی لبنان کے علاقے بیت یاحون میں حزب اللہ کے ایک مجاہد کے ساتھ شدید جھڑپ کے دوران اس کے دو افسران اور دو اہلکار زخمی ہوگئے۔
الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق، اسرائیلی فوج کے ریڈیو نے ایک ذریعے کے حوالے سے دعویٰ کیا کہ حزب اللہ کے مجاہد نے ایک دستی بم پھینکنے کے بعد شہادت پائی۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ اس جھڑپ کے بعد اسرائیلی فوج نے بیت یاحون میں مختلف تنصیبات پر حملہ کیا اور توپ خانے سے بھی علاقے کو نشانہ بنایا۔
اسرائیلی ذریعے کے مطابق زخمی ہونے والوں میں ایک افسر کی حالت درمیانی نوعیت کی ہے، جبکہ دوسرے افسر اور دو اہلکار معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ انہیں علاج کے لیے مقبوضہ فلسطین کے ایک اسپتال منتقل کر دیا گیا ہے۔
اس سے ایک روز قبل اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا تھا کہ اس نے جنوبی لبنان کے علاقے زوطر الشرقیہ اور علی الطاہر کی پہاڑیوں میں چھ افراد کو شہید کیا ہے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا تھا کہ یہ افراد حزب اللہ سے تعلق رکھتے تھے اور اس کے بقول "سیکیورٹی زون" میں اسرائیلی فوجیوں کے لیے خطرہ بن رہے تھے، تاہم اس دعوے کے حق میں کوئی ثبوت پیش نہیں کیا گیا۔
دوسری جانب حزب اللہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ زوطر الشرقیہ کے اطراف اسرائیلی فوج کی کارروائیاں جنگ بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی ہیں، جبکہ حزب اللہ اب تک اس معاہدے کی پابندی کر رہا ہے۔
حزب اللہ نے مزید کہا کہ اسرائیلی فوج نے ایک بار پھر جان بوجھ کر زوطر الشرقیہ جانے والی سڑک پر لبنانی شہریوں کو نشانہ بنایا، جس کے نتیجے میں دو افراد شہید ہوگئے۔ بیان میں کہا گیا کہ اسرائیلی رژیم کی تمام خلاف ورزیوں کو مسلسل ریکارڈ کیا جا رہا ہے اور ان کی نگرانی جاری ہے۔
آپ کا تبصرہ