بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا | مؤمنین "اس عظیم مصیبت میں سر و سینہ پیٹتے ہیں، لیکن ہمیں اس بے چینی اور اشک و آہ کے بیچ خود سے پوچھنا چاہئے:
یہ داغ جو ہمارے دلوں میں تازہ ہے اور ٹھنڈا نہیں ہوتا، ہمیں کس راستے کی طرف بلا رہا ہے؟
حقیقت یہ ہے کہ عاشورا ہمارے لئے ماضی بعید میں ختم ہونے والا کوئی توقّف گاہ نہیں؛ بلکہ اصل چشمہ اور سہارا ہے جو ہمیں حضرت ولی عصر (عَجَّلَ اللہُ فَرَجَہُ الشَّریف) کے ظہور پر نور تک پہنچا دیتا ہے۔
حصۂ سوئم:
اس قدر خون بہنے کے بعد، اس قدر اعلانیہ جرائم کے بعد، انقلاب اسلامی کے رہبرِ حکیم کی شہادت اور ان تمام نشانیوں کے آشکار ہونے کے بعد، جو دن کی طرح روشن، حق اور باطل کی سرحد دکھا رہی ہیں، اگر کوئی پھر بھی اس ظلم کے خلاف موقف اختیار نہیں کرنا چاہتا، یا اس سے بھی بدتر، اپنی زبان، قلم اور اسٹیج کو تاریخ کے مجرموں کی توجیہ اور تطہیر پر خرچ کرتا ہے یا اپنے دل میں بے شرف اجنبیوں سے نفرت نہیں رکھتا، تو اسے جان لینا چاہئے کہ عاشورا کے منطق میں، حق و باطل اور ظالم و مظلوم کی اس جنگ میں یہ غیرجانبداری اور ظالم کے ساتھ یہ ہمراہی اور تعاون، زمانے کے یزیدیوں کی صف میں کھڑے ہونے کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔
عاشورا ہمیں سکھاتا ہے کہ ہمیشہ سب کچھ تلوار سے شروع نہیں ہوتا؛ کبھی خاموشی سے شروع ہوتا ہے، توجیہ (ظالموں کے ظلم کے لئے) جواز (پیش کرنے) سے شروع ہوتا ہے، کسی واضح موقف سے پیچھے ہٹنے سے شروع ہوتا ہے، دنیاوی مفادات کو حقیقت پر ترجیح دینے سے شروع ہوتا ہے۔ کربلا میں بہت سے لوگوں نے تلوار نہیں اٹھائی، لیکن انہوں نے تلوار اٹھانے والوں کے لئے راستہ ہموار کیا۔ بہت سے لوگ خود قاتل نہیں تھے، لیکن ڈر، لالچ، بےحسی، الٹے تجزیوں اور بروقت بولنے اور بروقت خاموش رہنے سے گریز کرکے، اس المیے میں اپنا حصہ ڈال دیا۔
آج بھی اگر کوئی یہ تمام عالمی سطح کے جرائم دیکھ کر ظلم کی عالمی مشینری کی طرف جھک جائے، یا پسپائی، سازباز اور بے حسی اور بے عملی کا نسخہ تجویز کرے، یا مجرم کا چہرہ سنوارنے اور حق کی صف پر الزام لگانے کی کوشش کرے، تو وہ عاشورا کے امتحان میں کامیاب نہیں ہؤا ہے۔
اس سستی اور بے حسی کے مقابلے میں، امام جعفر صادق (علیہ السلام) کا کلام راستہ واضح کرتا ہے؛ جہاں آپؑ انہوں نے فرمایا:
"جو شخص قائمؑ کے قیام کے لئے، حتیٰ کہ ایک تیر تیار کرنے کے برابر بھی خود کو تیار کرے، وہ آپؑ کے انصار اور اصحاب میں شمار کیا جائے گا۔"
انتظار یعنی محض تیاری؛ آرام طلبی سے دوری اور میدانِ عمل میں بیدار موجودگی۔
عاشورا ایک آئینہ ہے جو ہمارے انتخابوں میں ہماری وفاداری کی سطح کو عیاں کرتا ہے۔ اگر ہم چاہتے ہیں کہ یہ سوگ ظہور سے جُڑ جائے، تو ہمیں اشک ریزي سے "سپاہی بننے" تک اور جوش و خروش سے "ماحول سازی" تک پہنچنا ہوگا۔
ایسا نہ ہو کہ محرم اور عاشورا کے ایام میں ہمارا حصہ صرف ایک آنسو ہو جو "امام زمانہؑ کی نصرت کے عزم" اور "ولی خدا کے رکاب میں خدمت کے لئے تیاری" پر منتج نہ ہو۔ ہماری کوشش ہونی چاہئے کہ بصیرت اور مختلف جہتوں میں خودسازی (اصلاح نفس) کے ذریعے، اہل کوفہ کے برعکس، آخری سانس تک اپنے امامؑ کے نائب کی ولایت سے وفاداری کے ساتھ اپنے امامؑ کے ساتھ رہیں اور اس صبحِ موعود کے لئے تیار رہیں۔
اختتام
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تحریر: احمد شرف خانی
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ