23 جون 2026 - 14:54
مآخذ: ابنا
سابق سی آئی اے تجزیہ کار: امریکی حمایت کے بغیر اسرائیل ایک ہفتہ بھی نہیں ٹک سکتا

امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار لَیری جانسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان امریکی فوجی مداخلت کے بغیر براہِ راست جنگ ہو جائے تو اسرائیل ایک ہفتہ بھی برقرار نہیں رہ سکے گا۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے سابق تجزیہ کار لَیری جانسن نے دعویٰ کیا ہے کہ اگر ایران اور اسرائیل کے درمیان امریکی فوجی مداخلت کے بغیر براہِ راست جنگ ہو جائے تو اسرائیل ایک ہفتہ بھی برقرار نہیں رہ سکے گا۔

ایک انٹرویو میں لَیری جانسن نے کہا کہ ایران اور اسرائیل کے درمیان کسی ممکنہ تصادم کی صورت میں اسرائیل کی عسکری صلاحیتیں امریکی مدد کے بغیر محدود ہو جائیں گی۔ ان کے بقول، حالیہ بارہ روزہ جنگ کے دوران بھی اسرائیل مسلسل امریکہ سے مدد اور حمایت کا طلبگار رہا۔

انہوں نے کہا کہ اس تنازع نے واضح کر دیا کہ اسرائیل اپنی سلامتی اور عسکری برتری برقرار رکھنے کے لیے بڑی حد تک امریکی تعاون پر انحصار کرتا ہے۔ جانسن کے مطابق اگر امریکہ براہِ راست مداخلت نہ کرے تو اسرائیل کے لیے طویل عرصے تک جنگی دباؤ کا سامنا کرنا انتہائی مشکل ہوگا۔

سابق سی آئی اے تجزیہ کار نے مزید کہا کہ دلچسپ بات یہ ہے کہ موجودہ حالات میں امریکی فوج خطے میں اپنی موجودگی اور سرگرمیوں میں کمی لا رہی ہے، جس سے مستقبل کے علاقائی توازن پر بھی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔

لَیری جانسن کے یہ تبصرے ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مشرقِ وسطیٰ میں حالیہ کشیدگی، ایران اور امریکہ کے درمیان مفاہمت اور اسرائیل کی سکیورٹی پالیسیوں پر عالمی سطح پر بحث جاری ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha