21 جون 2026 - 16:33
مآخذ: ابنا
ایران کا سوئٹزرلینڈ مذاکرات میں معاہدے پر عمل درآمد یقینی بنانے پر زور

ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے آج کے مذاکرات کا مقصد فریقِ مقابل کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ ا

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، ایران کی مذاکراتی ٹیم کے ترجمان اور وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ سوئٹزرلینڈ میں ہونے والے آج کے مذاکرات کا مقصد فریقِ مقابل کی جانب سے کیے گئے وعدوں پر عمل درآمد کو یقینی بنانا ہے۔ انہوں نے اتوار کے روز میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوئس وزیر خارجہ سے ملاقات کی، جبکہ قطری ثالثی میں ایرانی وفد کا ایک اجلاس جاری ہے۔ اس کے بعد پاکستانی حکام کے ساتھ ملاقات اور پھر ایران، امریکہ، پاکستان اور قطر کے نمائندوں پر مشتمل چار فریقی اجلاس منعقد ہوگا۔

اسماعیل بقائی نے واضح کیا کہ 28 خرداد کو دستخط ہونے والی مفاہمتی یادداشت کو دوبارہ دستخط کرنے کا کوئی منصوبہ نہیں ہے۔ ان کے مطابق موجودہ نشست اس یادداشت پر عمل درآمد کا جائزہ لینے کے لیے منعقد کی گئی ہے اور حتمی مذاکرات کا آغاز اس وقت تک ممکن نہیں ہوگا جب تک مفاہمتی یادداشت کی پانچوں بنیادی شقوں پر عملی پیش رفت نہ ہو جائے۔

انہوں نے کہا کہ یادداشت کی پہلی شق، جس میں تمام محاذوں خصوصاً لبنان میں جنگ کے خاتمے کا ذکر ہے، ایران کے لیے غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے۔ اس کے علاوہ ایران اپنے منجمد مالی اثاثوں تک رسائی، تیل اور پیٹروکیمیکل مصنوعات کی فروخت سے متعلق پابندیوں میں نرمی اور امریکی فریق کی دیگر ذمہ داریوں پر عمل درآمد کو بھی اہم سمجھتا ہے۔

بقائی کے مطابق موجودہ مذاکرات کا مقصد صرف تبادلہ خیال نہیں بلکہ یہ اطمینان حاصل کرنا ہے کہ فریقِ مقابل اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے پورا کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ لبنان میں جنگ بندی کا قیام انتہائی اہم ہے اور گزشتہ روز سامنے آنے والی نازک جنگ بندی سفارتی کوششوں اور زمینی حقائق کا نتیجہ ہے، جسے برقرار رکھنے کے لیے تمام فریقوں کو اپنے وعدے پورے کرنا ہوں گے۔

ایرانی ترجمان نے کہا کہ ایران کسی معاہدے پر دستخط کرکے اسے نظرانداز نہیں کرتا بلکہ اس کے نفاذ کی مسلسل نگرانی کرتا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ "تعہد کے بدلے تعہد" ایران کی بنیادی پالیسی ہے اور ماضی کے تجربات کو مدنظر رکھتے ہوئے اسی اصول کے تحت آگے بڑھا جائے گا۔

انہوں نے مزید بتایا کہ موجودہ مذاکراتی سلسلہ صرف ایک روز پر مشتمل ہے اور توقع ہے کہ تمام اجلاس آج ہی مکمل ہو جائیں گے۔ ان کے مطابق چار فریقی نشست میں ایران اپنے تحفظات، مطالبات اور معاہدے کی ممکنہ خلاف ورزیوں کے معاملات واضح طور پر اٹھائے گا تاکہ ان کا مناسب حل تلاش کیا جا سکے۔

اسماعیل بقائی نے اس عزم کا اظہار کیا کہ ایرانی وفد قومی مفادات کے تحفظ کے معاملے میں کسی قسم کی نرمی نہیں برتے گا اور تمام متعلقہ اداروں کے ساتھ مکمل ہم آہنگی کے ذریعے فریقِ مقابل کو اس کی ذمہ داریوں پر عمل درآمد کا پابند بنانے کی کوشش جاری رکھے گا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha