اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، حسن فضل اللہ نے لبنان کے خلاف صہیونی رژیم کی مسلسل جارحیت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران ان حملوں میں 100 سے زائد افراد شہید اور زخمی ہوئے ہیں۔ ان کے بقول دشمن جنوبی لبنان پر قبضہ، مزاحمت کے خاتمے اور اس کے اثر و رسوخ کو مٹانے میں ناکامی کے بعد نہتے شہریوں کو نشانہ بنا رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ صہیونیوں کی یہ وحشیانہ کارروائیاں علی الطاہر کے علاقے میں مزاحمتی مجاہدین کے کامیاب آپریشن کے بعد سامنے آئیں، جس میں قابض فوج کو بھاری نقصان اٹھانا پڑا اور وہ علاقے پر قبضہ کرنے میں ناکام رہی۔ اس ناکامی کے بعد اسرائیلی فوج نے شہری آبادی پر حملوں کا راستہ اختیار کیا۔
حسن فضل اللہ نے مزید کہا کہ صہیونی رژیم ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت سے بھی ناخوش ہے، کیونکہ یہ اس کے توسیع پسندانہ عزائم کے مطابق نہیں اور اس کے اہداف کو ناکام بناتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ دشمن ہماری سرزمین پر قبضہ کرنا چاہتا تھا، اسی لیے مزاحمت نے اپنے ملک اور عوام کے دفاع کے جائز حق کا استعمال کیا۔
مزاحمت ہر صورت دشمن کی جارحیت کا جواب دے گی
حسن فضل اللہ نے کہا کہ جب تک صہیونی دشمن جنگ بندی کی پابندی نہیں کرتا اور لبنان میں اپنی موجودگی برقرار رکھنے کی کوشش کرتا ہے، اس وقت تک ثابت قدمی، استقامت اور مزاحمت ہی واحد راستہ ہے۔
انہوں نے حالیہ جنگ بندی سے متعلق گفتگو کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اسرائیل نے ثابت کر دیا ہے کہ وہ مکمل طور پر جنگ بندی کا پابند نہیں، اس لیے ایک جامع اور ضمانت شدہ جنگ بندی ناگزیر ہے۔ ان کے مطابق جب بھی دشمن لبنان کی سرزمین پر تجاوز کرے گا، مزاحمت کو اس کے مقابلے کا مکمل حق حاصل ہے۔
انہوں نے ان حلقوں کو بھی جواب دیا جو مزاحمت پر جنگ بندی کی خلاف ورزی کا الزام عائد کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر دشمن علی الطاہر یا کسی اور مقام پر پیش قدمی کی کوشش کرے گا تو مزاحمت اس کے سامنے ڈٹ کر کھڑی ہوگی۔ انہوں نے مزید کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان طے پانے والی مفاہمت میں اسرائیلی افواج کے لبنان سے انخلا کا نکتہ بھی شامل ہے۔
ایران لبنان کی حمایت کے وعدے پر قائم ہے
حسن فضل اللہ نے کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران نے لبنان کی حمایت کے حوالے سے اپنے وعدوں کو عملی طور پر ثابت کیا ہے اور اس کا مؤقف ہمیشہ واضح، ثابت قدم اور مخلصانہ رہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے مفاہمت کی پہلی شرط جنگ بندی، جنگ کے خاتمے اور دشمن کے انخلا کو قرار دیا، جس کی ضمانت امریکہ کی جانب سے لبنان کی وحدت اور علاقائی سالمیت کے احترام کی صورت میں دی گئی۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ لبنان میں نہ کوئی بفر زون ہوگا، نہ کوئی نام نہاد سرخ لکیر اور نہ ہی کسی قسم کا قبضہ برقرار رہے گا۔
حسن فضل اللہ نے کہا کہ ایران نے صرف یہی نہیں کیا بلکہ لبنان کے معاملے کو ترجیح دیتے ہوئے وہ مذاکرات بھی مؤخر کر دیے جن کا پوری دنیا انتظار کر رہی تھی۔ ان کے بقول یہ وفاداری، اصول پسندی اور عہد کی پاسداری کی روشن مثال ہے۔
انہوں نے کہا کہ پوری دنیا نے ایران اور امریکہ کے درمیان ہونے والی مفاہمت کا خیر مقدم کیا، سوائے صہیونی رژیم کے، کیونکہ وہ خود کو اس کا سب سے بڑا نقصان اٹھانے والا فریق سمجھتی ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جامع جنگ بندی کا نکتہ امریکہ کے لیے بھی لازمی ہے اور ایرانی حکام مسلسل اس پر عمل درآمد کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
حسن فضل اللہ نے اس اعتماد کا اظہار کیا کہ ایران لبنان کی حمایت اور اس مفاہمت کی شقوں پر عمل درآمد کے حوالے سے اپنے مؤقف پر قائم رہے گا۔ انہوں نے خبردار کیا کہ آئندہ دنوں میں صہیونی دشمن معاہدے کو سبوتاژ کرنے اور لبنانی عوام کے خلاف حملے جاری رکھنے کی کوشش کرے گا، تاہم مزاحمت میدان میں اس کا مقابلہ کرتی رہے گی۔
انہوں نے مزید کہا کہ خطے اور دنیا کی بدلتی ہوئی سیاسی صورتحال لبنان اور اسرائیل کے درمیان جاری کشمکش پر گہرے اثرات مرتب کر رہی ہے۔ اس کے باوجود حزب اللہ حکومت کے ساتھ تعاون کے لیے تیار ہے، لیکن اسرائیل کے ساتھ براہِ راست مذاکرات میں کسی بھی قسم کی رعایت دینے کے نتائج سے خبردار کرتی ہے۔
اپنے خطاب کے اختتام پر حسن فضل اللہ نے کہا کہ لبنانی حکومت کو حقیقت سے چشم پوشی نہیں کرنی چاہیے اور نہ ہی ایسے وعدے کرنے چاہئیں جن پر وہ عمل درآمد کی صلاحیت نہیں رکھتی۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا موجودہ طرزِ عمل عوامی خواہشات اور مزاحمت کے مؤقف سے متصادم ہے اور اس سے دشمن کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
انہوں نے زور دے کر کہا کہ لبنان کو وہ کچھ بھی صہیونی دشمن کے حوالے نہیں کیا جائے گا جو وہ میدانِ جنگ میں حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے۔ اگر حکومت واقعی قومی خودمختاری کا تحفظ چاہتی ہے تو اسے قومی مفادات، باہمی تعاون اور داخلی ہم آہنگی کو ترجیح دینا ہوگی۔
آپ کا تبصرہ