اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،راجستھان میں بھارت-پاکستان سرحد سے متصل علاقوں میں مبینہ غیر قانونی تجاوزات کے خلاف شروع کیے گئے آپریشن کلین کے تحت انتظامیہ نے بڑی کارروائی کرتے ہوئے باڑمیر ضلع کے سرحدی گاؤں مالانا میں واقع ایک مسجد کو بلڈوزر کے ذریعے منہدم کر دیا۔ یہ کارروائی جمعرات کی دوپہر تقریباً ڈھائی بجے پولیس اور ضلعی انتظامیہ کی مشترکہ ٹیم کی موجودگی میں انجام دی گئی۔انتظامیہ کے مطابق مسجد سرحدی علاقے میں مبینہ طور پر غیر قانونی قبضے کی زمین پر تعمیر کی گئی تھی، جس کے باعث اسے ہٹانے کا فیصلہ کیا گیا۔ بتایا جا رہا ہے کہ یہ مسجد تقریباً چار سال قبل ایک مدرسے کے احاطے میں تعمیر کی گئی تھی اور پاک-بھارت سرحد سے تقریباً دو کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھی۔
مسجد سے وابستہ مولوی معروف خان نے دعویٰ کیا کہ انہیں کارروائی سے صرف ایک روز قبل نوٹس دیا گیا تھا۔ ان کے مطابق وہ نوٹس کا جواب تیار کر رہے تھے اور قانونی طریقہ کار اختیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے، لیکن جواب داخل کرنے سے پہلے ہی انتظامیہ نے مسجد کو منہدم کر دیا۔ مولوی نے کہا کہ انہوں نے کسی قسم کی مزاحمت نہیں کی، قابل ذکر بات یہ ہے کہ انہیں مناسب وقت نہ دیے جانے پر اعتراض ہے۔اس کارروائی کے بعد مقامی باشندوں میں بے چینی دیکھی گئی۔ مالانا گاؤں کے رہائشی ہاشم خان نے الزام لگایا کہ علاقے کے لوگوں کو بلاوجہ ہراساں کیا جا رہا ہے اور انہیں نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ انتظامیہ نے نہ تو مناسب مہلت دی اور نہ ہی یہ واضح کیا کہ حکومت کی جانب سے کن اصولوں یا شرائط کی بنیاد پر کارروائی کی جا رہی ہے۔
دوسری جانب سیاسی حلقوں نے بھی اس معاملے پر سوالات اٹھائے ہیں۔ کانگریس کے رکن پارلیمنٹ اُمّیدرام بینیوال نے کہا کہ وہ گزشتہ دو دنوں سے انتظامیہ سے رابطہ کرنے کی کوشش کر رہے ہیں، لیکن انہیں کوئی جواب نہیں ملا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ اس طرح کی کارروائیاں عوامی مسائل سے توجہ ہٹانے کی کوشش ہو سکتی ہیں۔بایتو سے کانگریس کے رکن اسمبلی ہریش چودھری نے کہا کہ قومی سلامتی کے معاملے پر کوئی سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے، لیکن کارروائی کا طریقۂ کار شفاف اور منصفانہ ہونا ضروری ہے۔ ان کے مطابق اگر کوئی تعمیر غیر قانونی ہے تو قانونی عمل اور مناسب وقت دینا بھی اتنا ہی ضروری ہے۔یاد رہے کہ گزشتہ ماہ مرکزی وزیر داخلہ امت شاہ نے بیکانیر میں سرحدی اضلاع کے کلکٹروں اور پولیس سپرنٹنڈنٹس کے ساتھ ایک اہم اجلاس کیا تھا، جس میں سرحدی علاقوں کی سیکیورٹی اور غیر قانونی تجاوزات کے خاتمے کے حوالے سے ہدایات جاری کی گئی تھیں۔ اسی سلسلے میں باڑمیر انتظامیہ نے سروے اور جانچ کے بعد یہ کارروائی انجام دی۔فی الحال پولیس اور ضلعی انتظامیہ نے پورے معاملے پر خاموشی اختیار کر رکھی ہے۔ یہ بھی واضح نہیں کیا گیا کہ اس مہم کے دوران اب تک کتنی تجاوزات ہٹائی گئی ہیں اور آئندہ کن علاقوں میں کارروائی کی جائے گی
آپ کا تبصرہ