بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ معاشیات کے پروفیسر، ڈاکٹر مہدی منصوری بیدکانی نے ایک مضمون میں لکھا: نیویارک ٹائمز کی ایک رپورٹ پڑھنے کو ملی؛ پچاس ایف-16 اور ایف-15 ای لڑاکا طیارے، 11 بحری جاسوسی طیارے۔ 8 ایئر ریفیولنگ طیارے، ایک میزائل داغنے والی آبدوز۔ ایک طیارہ بردار بحری جہاز، ایک بمبار طیاروں کا ایک گروپ جو نیٹو کی فضائی اور بحری طاقت کا ایک تہائی حصہ تشکیل دے رہے تھے ـ اور یہ سب امریکہ فراہم کر رہا تھا، ـ اور اب یہ سب یورپ سے نکالا جا رہا ہے۔ اعداد و شمار درست ہیں۔ عمل درآمد کا وقت: اس سے کہیں جلد جتنا یورپی تصور کر رہے ہیں۔
سوال یہ ہے کہ یہ سامان کہاں جا رہا ہے؟ جواب واضح ہے: ایشیا۔ لیکن صرف چین کو روکنے کے لیے نہیں۔ یہ سامان ایشیا-بحرالکاہل کے علاقے میں جنگی نقصانات کی تلافی کے لیے بھیجا جا رہا ہے۔ ایران کے ساتھ جنگ نے امریکہ اور اسرائیل کے 120 سے زائد جنگی طیارے تباہ کر دیئے ہیں؛ خاص طور پر نواتیم اور رامات ڈیوڈ کے اڈوں پر آخری حملے میں۔ امریکہ جو کچھ ایران میں کھو چکا ہے، اس کی تلافی یورپ میں نیٹو کے گودام خالی کر کے کر رہا ہے۔ یورپ ایران کی جنگ کی قیمت ادا کر رہا ہے۔ بغیر اس کے کہ اس نے اس جنگ میں شرکت کی ہو۔ (1)
انہی دنوں میں، دیگر خبریں بھی شائع ہوئی ہیں:
- ایک امریکی وفاقی جج نے ٹرمپ کے 1.8 بلین ڈالر کے فنڈ کے قیام پر لامحدود روک لگانے کا حکم جاری کر دیا ہے۔
- واشنگٹن میں واقع کینیڈی سنٹر فار پرفارمنگ آرٹس اپنے سنگ مرمر کے نقش سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کے لئے قانونی جنگ لڑ رہا ہے۔
- ٹیکساس کے ریپبلکن سینیٹر جان کورنِین (John Cornyn)، جو ابتدائی انتخابات میں ٹرمپ کے حامی امیدوار سے شکست کھا چکا ہے ـ نے اپنی شکست کے بعد پہلے انٹرویو میں ٹرمپ کے اقتدار کے آخری دو سالہ دور کو تکلیف دہ اور غیر مستحکم قرار دیا ہے؛ اور
- آج، ایران کے ساتھ ممکنہ امن معاہدے کے بارے میں متضاد رپورٹس شائع ہوئی ہیں: ٹرمپ کہتا ہے کہ معاہدہ قریب ہے، ایرانی وزیر خارجہ نے کہا ہے کہ معاہدہ کبھی بھی اتنا قریب نہیں تھا جتنا کہ آج ہے، اور پاکستان کے وزیراعظم نے آگے بڑھ کر دعویٰ کیا ہے کہ حتمی متن پر اتفاق ہو چکا ہے۔
Trap of the Century | The American Empire is Digging Its Own Grave.
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
1۔ گوکہ بادی النظر میں لگتا ہے کہ گویا یورپی ممالک سے امریکی افواج کے انخلاء بلاوجہ ہے یا اس کی وجہ امریکی افواج کی ضروریات ہیں لیکن اس بات کو بھی نظر سے دور نہیں رکھنا چاہئے کہ ان ممالک نے ایران کے خلاف امریکی-صہیونی جنگ میں براہ راست شمولیت سے انکار کیا تھا اور ٹرمپ نے انہیں اسی حوالے سے دھمکیاں دی تھیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ترجمہ: ابو فروہ
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ