اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر سوشل میڈیا پر ایران کے حوالے سے بیان دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ ایران کے ساتھ ہونے والی مفاہمت پر دستخط کل اتوار کے روز کیے جائیں گے، تاہم اس دعوے کی تاحال کوئی باضابطہ تصدیق نہیں ہوئی۔
ٹرمپ نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کا ایران کے ساتھ معاہدہ جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کو یقینی بنانے کے لیے ہے۔ اس نے دعویٰ کیا کہ ایران نہ جوہری ہتھیار حاصل کرے گا، نہ تیار کرے گا اور نہ ہی کسی اور طریقے سے ان تک رسائی حاصل کرے گا۔
امریکی صدر نے مزید کہا کہ "مناسب وقت پر، جب حالات مکمل طور پر پرسکون ہوں گے، ہم اپنے بی-2 بمبار طیاروں کی مدد سے کارروائی کریں گے اور گہرے پہاڑوں میں دفن جوہری مواد کو مکمل طور پر ختم کر دیں گے۔"
ٹرمپ نے اپنے بیان کے آخر میں کہا کہ وہ ایران اور پورے مشرقِ وسطیٰ کے ساتھ مستقبل میں طویل المدتی تعاون کے خواہاں ہیں اور امید کرتے ہیں کہ موجودہ سفارتی عمل جلد اور آسانی سے مکمل ہو جائے گا۔ تاہم انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگر ایسا نہ ہوا تو ان کے پاس "آخری متبادل" موجود ہے، جسے وہ دوبارہ استعمال نہ کرنے کی امید رکھتے ہیں۔
دوسری جانب ایران بارہا واضح کر چکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ جوہری ہتھیار بنانے کی کوشش نہیں کر رہا۔ ایران کا مؤقف ہے کہ بین الاقوامی جوہری نگرانی کے ادارے کو بھی ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا جو جوہری ہتھیاروں کی تیاری کے دعووں کی تصدیق کرتا ہو۔
ادھر ٹرمپ کے اس دعوے کے برعکس، ایرانی وزارتِ خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ مجوزہ مفاہمت پر دستخط کے وقت کے بارے میں ابھی کچھ کہنا قبل از وقت ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ آئندہ ایک یا دو دن میں جنیوا یا کسی دوسرے مقام پر مذاکراتی وفد کے سفر کا کوئی منصوبہ موجود نہیں ہے۔
اس طرح معاہدے پر کل دستخط ہونے کے بارے میں ٹرمپ کا دعویٰ فی الحال غیر مصدقہ ہے اور اس حوالے سے کسی باضابطہ اعلان کا انتظار کیا جا رہا ہے۔
آپ کا تبصرہ