بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا اسرائیل ہیوم نے پیر کی صبح صہیونی ریاست میں ایک باخبر ذریعے کے حوالے سے انکشاف کیا کہ اسرائیل نے ایران پر اپنا حملہ ریاستہائے متحدہ امریکہ کے ساتھ ہم آہنگ ہو کر کیا ہے۔
یہ انکشاف وائٹ ہاؤس کے سرکاری بیانئے کو مکمل طور پر ختم کر دیتا ہے اور ثابت کرتا ہے کہ 'عدم مداخلت' کا دعویٰ محض ایک ابلاغیاتی فریب تھا۔
اس رسوائی کی شدت اس وقت دوچند ہو جاتی ہے جب ہم جان لیتے ہیں کہ 'اسرائیل ہیوم' کوئی آزاد یا ناقد اخبار نہیں، بلکہ بنیامین نیتن یاہو اور اسرائیل میں حکمران دائیں بازو کے بالکل قریب ذریعۂ ابلاغ سمجھا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں، یہ اعتراف ٹرمپ کے حامیوں کے کیمپ کے اندر سے ہی آیا ہے۔
یہ انکشاف امریکی سینیٹر "کرس مورفی" کے آتشین بیانات کو بھی ایک نئے انداز بامعنی بنا دیتا ہے۔
مورفی نے چند گھنٹے پہلے ٹرمپ پر "جنگ پر مکمل کنٹرول کھو جانے" کا الزام عائد کیا، اور کہا تھا کہ اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ معاملہ 'جنگ پر عدم کنٹرول' سے آگے بڑھ گیا ہے؛ واشنگٹن نے جان بوجھ کر رائے عامہ کو دھوکہ دیا ہے اور خود براہ راست ایران کے خلاف فوجی مہم جوئی میں شریک ہو گیا ہے۔
بہرحال، ٹرمپ نے کل رات اعلان کیا کہ وہ نیتن یاہو سے رابطہ کرکے اسے ایران اور لبنان سے حملوں سے روک لے گا، اور عملی میدان میں اس کی بات بے وقعت ثابت ہوئی۔ کیونکہ اس نے امریکی صدر کے طور پر ایک وعدہ دیا جس پر اس نے عمل نہیں کیا
اگر اس نے واقعی نیتن یاہو سے رابطہ کیا ہو اور نیتن یاہو نے اس کی بات نہ مانی ہو تو ثابت ہوتا ہے کہ نیتن یاہو ضروری نہیں سمجھتا کہ اس کی بات کو اہمیت دے۔ اور اگر اس نے اپنے معمول کے مطابق، ایران کو دھوکہ دینے کی کوشش کی ہو، تو بجائے خود ایک اہم رسوائی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ