7 جون 2026 - 16:47
اسرائیلی جیلوں میں 360 فلسطینی بچے قید، ذہنی و جسمانی اذیتوں کا سامنا

90 بچے بغیر مقدمے کے انتظامی حراست میں، فلسطینی ادارے نے بین الاقوامی برادری سے مداخلت کا مطالبہ کیا

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، فلسطینی قیدیوں کے حقوق کے دفاع کے مرکز نے اپنی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ اس وقت تقریباً 360 فلسطینی بچے اسرائیلی جیلوں میں انتہائی سخت حالات میں قید ہیں، جو بچوں کے حقوق سے متعلق بین الاقوامی قوانین اور معیارات کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

رپورٹ کے مطابق اسرائیلی عدالتیں 160 فلسطینی بچوں کو سزائیں سنا چکی ہیں، جبکہ 90 دیگر بچوں کو بغیر کسی مقدمے کے انتظامی حراست میں رکھا گیا ہے۔ انتظامی حراست ایسی عارضی قید ہے جسے بار بار بڑھایا جا سکتا ہے اور بعض اوقات یہ کئی برسوں تک جاری رہتی ہے۔

مرکز نے اپنی رپورٹ میں مزید بتایا کہ قید فلسطینی بچے ذہنی، نفسیاتی اور جسمانی تشدد کا شکار ہیں۔ انہیں مناسب طبی سہولیات میسر نہیں ہیں، جیلوں کے وارڈ گنجائش سے زیادہ بھرے ہوئے ہیں اور ان میں مختلف بیماریوں کے پھیلنے کے آثار بھی دیکھے جا رہے ہیں۔

رپورٹ میں خبردار کیا گیا ہے کہ اسیری کے اثرات بچوں کی رہائی کے بعد بھی ختم نہیں ہوتے بلکہ ان کی نفسیاتی، تعلیمی اور سماجی زندگی پر طویل المدتی منفی اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

فلسطینی اسیران کے امور کی نگرانی کرنے والے ادارے "الاسیر کلب" کے اعداد و شمار کے مطابق اس وقت اسرائیلی جیلوں میں 9 ہزار 500 فلسطینی اور عرب قیدی موجود ہیں۔ 1967ء سے اب تک 326 فلسطینی اسیر تشدد اور جان بوجھ کر طبی غفلت کے باعث شہید ہو چکے ہیں۔

اسیران کی سنگین صورتحال پر حماس کی تشویش

فلسطینی مزاحمتی تحریک حماس نے 22 مئی 2026ء کو یومِ اسیر فلسطین کے موقع پر جاری ایک بیان میں کہا تھا کہ اسرائیلی جیلوں میں موجود تقریباً 9 ہزار 500 فلسطینی اسیر انتہائی تشویشناک حالات سے دوچار ہیں، جن میں 84 خواتین بھی شامل ہیں۔

حماس کے مطابق 7 اکتوبر 2023ء کے بعد سے غزہ کے تقریباً 1500 شہریوں کو اسرائیلی فوج نے اغوا کرکے خفیہ حراستی مراکز میں منتقل کر رکھا ہے، جہاں انہیں شدید جسمانی اور نفسیاتی تشدد کا سامنا ہے۔ بیان میں کہا گیا کہ ان افراد کو بنیادی انسانی حقوق سے بھی محروم رکھا گیا ہے اور ان میں سے درجنوں افراد اسیری کے دوران شہید ہو چکے ہیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha