اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ابوعبیدہ نے غزہ میں جاری صہیونی جارحیت، روزانہ ہونے والے قتلِ عام اور جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں پر ثالث ممالک اور عالمِ اسلام کے نام ایک تفصیلی بیان جاری کیا ہے، جس میں انہوں نے ترکی، مصر اور قطر سے سوال کیا کہ "آپ کہاں ہیں؟ آپ کا کردار کہاں ہے؟ آپ کی ضمانتیں کہاں ہیں؟"
القسام بریگیڈز کے ترجمان ابوعبیدہ نے اپنے بیان میں کہا کہ صہیونی رژیم مزاحمت کے قائدین کو شہید کرکے اس تحریک کو کمزور نہیں کر سکتی۔ انہوں نے واضح کیا کہ "حساب اور انتقام کا دفتر اس وقت تک کھلا رہے گا جب تک دشمن اپنے جرائم کی پوری اور بھاری قیمت ادا نہیں کر دیتا۔"
انہوں نے غزہ کی پٹی میں روزانہ ہونے والی شہری آبادی کی شہادتوں اور قابض رژیم کی جانب سے جنگ بندی معاہدے کی خلاف ورزیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اس صورتحال نے ضامن اور ثالث ممالک پر بھاری ذمہ داری عائد کر دی ہے۔ ابوعبیدہ نے امریکہ کے علاوہ ثالثی میں شامل ترکی، مصر اور قطر کو براہ راست مخاطب کرتے ہوئے کہا: "آپ کہاں ہیں؟ آپ کا کردار کہاں ہے؟ آپ کی ضمانتیں کہاں ہیں؟"
ثالث ممالک اور امتِ مسلمہ سے خطاب
ابوعبیدہ نے ثالث ممالک اور عالمِ اسلام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مقتول اور قاتل کو ایک ہی مقام پر نہ رکھا جائے بلکہ غزہ کے مظلوم عوام کے ساتھ کھڑے ہو کر ایسا باعزت مؤقف اختیار کیا جائے جو تاریخ میں یاد رکھا جائے۔
انہوں نے کہا کہ دشمن نے ایک مرتبہ پھر حالات کا غلط اندازہ لگایا اور مزاحمت کی لچک کو کمزوری اور تحمل کو پسپائی سمجھ لیا۔ صہیونی قیادت نے یہ گمان کیا کہ مزاحمت اپنے شہداء اور جرائم کو بھلا دے گی، حالانکہ اس جنگ کا حساب ابھی باقی ہے اور دشمن کو اپنے تمام جرائم کی قیمت ادا کرنا ہوگی۔
القسام کے ترجمان نے زور دے کر کہا کہ اگر دشمن یہ سمجھتا ہے کہ مزاحمتی قائدین کی شہادت سے تحریک کمزور ہو جائے گی تو وہ سخت غلطی میں ہے، کیونکہ شہداء کا خون مزاحمت کے سفر کو مزید قوت اور استقامت فراہم کرتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ شہید قائدین کا خون ان کے اخلاص، عوام کے ساتھ ان کے مضبوط تعلق اور اپنی جانیں قربان کرنے کے عزم کی روشن دلیل ہے۔
شہید قائدین کو خراجِ عقیدت
ابوعبیدہ نے اپنے بیان میں مزاحمت کے متعدد شہید قائدین کو خراجِ عقیدت پیش کیا اور بالخصوص عزالدین حداد اور محمد عودہ کی خدمات کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ان قائدین نے "طوفان الاقصیٰ" کی منصوبہ بندی اور مزاحمتی محاذوں کی قیادت میں اہم کردار ادا کیا۔
دشمن کے نام انتباہ
ابوعبیدہ نے اسرائیل کو خبردار کرتے ہوئے کہا کہ جس طرح صدرِ اسلام میں زید بن حارثہ، جعفر بن ابی طالب اور عبداللہ بن رواحہ کی شہادت مسلمانوں کی قیادت کے خاتمے کا سبب نہیں بنی بلکہ اس کے بعد خالد بن ولید سامنے آئے، اسی طرح آج بھی مزاحمت کے پاس ایسے قائدین موجود ہیں جو دشمن کے مقابلے کے لیے تیار ہیں۔
انہوں نے کہا: "اے دشمنانِ خدا! تمہیں ایسی چیز کی بشارت دی جا رہی ہے جو تمہاری تباہی کا سبب بنے گی۔"
امتِ مسلمہ سے عملی اقدام کی اپیل
ابوعبیدہ نے فلسطینی عوام اور عالمِ اسلام کی مزاحمتی قوتوں سے کہا کہ موجودہ مرحلہ حق و باطل کے درمیان فیصلہ کن معرکے کا مرحلہ ہے، جہاں خاموشی اور غیر جانبداری کی کوئی گنجائش نہیں۔ انہوں نے تمام اسلامی جماعتوں، تحریکوں اور مسلم اقوام سے مطالبہ کیا کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر امت کے اصل دشمن کے خلاف متحد ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ مختلف محاذوں پر مزاحمت کے سامنے اسرائیل کی کمزوری واضح ہو چکی ہے اور غزہ کے مجاہدین نے محدود وسائل کے باوجود دشمن کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کر دیا ہے۔
اہلِ غزہ کے نام پیغام
بیان کے اختتام پر ابوعبیدہ نے غزہ کے عوام کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت نے ان کی آوازیں سنی ہیں، ان کے نعرے دیکھے ہیں اور شہید قائدین کی تشییع میں شریک ہونے والے عظیم اجتماعات کا مشاہدہ کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ان شہداء کے خون، عوام کی استقامت اور قربانیوں سے وفاداری مزاحمت کی ذمہ داری ہے۔
انہوں نے اہلِ غزہ سے اللہ تعالیٰ اور مزاحمت پر اعتماد رکھنے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ مزاحمت اپنے شہید قائدین کے راستے کو جاری رکھے گی۔
ابوعبیدہ نے اپنے پیغام کا اختتام ان الفاظ پر کیا: "ہر تاریک رات کے بعد سحر طلوع ہوتی ہے، فتح آتی ہے اور اقتدار قائم ہوتا ہے۔ بے شک یہ جہاد ہے؛ یا فتح نصیب ہوگی یا شہادت۔"
آپ کا تبصرہ