9 جون 2026 - 17:05
مآخذ: ابنا
امریکہ اور ایران جنگ: ترکیہ کے لیے مواقع بھی، خطرات بھی

ترک تجزیہ کاروں اور مفکرین نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے اثرات پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،ترک تجزیہ کاروں اور مفکرین نے امریکہ اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی اور ممکنہ جنگ کے اثرات پر گہری نظر رکھنا شروع کر دی ہے۔ ترکی میں شائع ہونے والی حالیہ رپورٹس اور تجزیوں میں اس سوال پر خاص توجہ دی جا رہی ہے کہ خطے میں پیدا ہونے والی صورتحال ترکی کی سلامتی، معیشت اور سفارتی پوزیشن کو کس حد تک متاثر کر سکتی ہے۔

ترک مبصرین کی اکثریت امریکہ اور اسرائیل کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا ذمہ دار قرار دیتی ہے، لیکن اس کے ساتھ وہ ترکیہ کو مشورہ دے رہے ہیں کہ وہ جذباتی ردعمل کے بجائے عملی اور مفاداتی حکمت عملی اختیار کرے تاکہ نئی علاقائی صورتحال سے فائدہ اٹھایا جا سکے۔

ترکی کے کئی معروف تجزیہ کار اسرائیلی وزیرِاعظم نیتن یاہو کے خلاف سخت مؤقف رکھتے ہیں، تاہم امریکی پالیسیوں پر کھل کر تنقید کرنے سے گریز کرتے ہیں۔ بعض ترک کالم نگاروں نے یہاں تک کہا ہے کہ ترکی اور اسرائیل کے درمیان ایک غیر اعلانیہ کشیدگی پہلے ہی شروع ہو چکی ہے، اگرچہ سرکاری سطح پر اس قسم کے بیانات سامنے نہیں آئے۔

ترک تجزیاتی ادارے “یتکین ریپورٹ” میں شائع ایک تفصیلی رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف جنگ ترکیہ کے لیے ایک طرف سفارتی مواقع پیدا کر سکتی ہے جبکہ دوسری طرف یہ ایک خطرناک اسٹریٹجک جال بھی ثابت ہو سکتی ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر امریکہ اور ایران کے درمیان کسی محدود معاہدے کی صورت بنتی ہے تو ترکیہ خطے میں ایک اہم ثالثی کردار ادا کر سکتا ہے، کیونکہ وہ ان چند ممالک میں شامل ہے جو بیک وقت ایران، نیٹو، خلیجی ممالک اور قطر و پاکستان جیسے علاقائی فریقوں کے ساتھ روابط رکھتے ہیں۔

ترکیہ نے روس یوکرین جنگ میں ثالثی کا تجربہ بھی حاصل کیا، جس کے باعث اسے خطے میں ایک متوازن سفارتی قوت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق عراق، شام، توانائی کی سلامتی، مہاجرین اور تجارتی راستوں جیسے معاملات میں ترکیہ کا کردار نظر انداز کرنا آسان نہیں ہوگا۔

رپورٹ میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ ترکیہ کے لیے ایسا علاقائی نظام قابلِ قبول نہیں ہو سکتا جس میں ایران کو مکمل طور پر الگ تھلگ کر دیا جائے، لیکن وہ ایسی صورتحال بھی نہیں چاہتا جس میں ایران کے اتحادی گروہوں کو غیر محدود آزادی حاصل ہو جائے۔ اسی لیے انقرہ کو تہران کے ساتھ رابطے برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ عراق، شام اور لبنان میں مسلح گروہوں کے اثر و رسوخ کو بھی متوازن رکھنا ہوگا۔

دوسری جانب ترک ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے بعد ترکیہ کو سکیورٹی خطرات کا سامنا بھی بڑھ سکتا ہے۔ جرمنی کی جانب سے ترکیہ کے جنوب مشرقی علاقوں میں پیٹریاٹ دفاعی نظام کی تنصیب کو اسی تناظر میں ایک اہم پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا کہ اگرچہ ترکیہ نیٹو کی دوسری بڑی فوج رکھتا ہے اور دفاعی صنعت میں نمایاں ترقی کر چکا ہے، لیکن فضائی اور میزائل دفاع کے معاملے میں وہ اب بھی مغربی سکیورٹی نظام پر انحصار کرتا ہے۔ یہی صورتحال ترکی کے اس دعوے کے برعکس ہے جس میں وہ خود کو مکمل طور پر آزاد دفاعی قوت کے طور پر پیش کرتا ہے۔

تجزیہ کاروں کے مطابق اگر ایران کمزور ہوتا ہے تو ترکیہ کو وقتی فائدہ ہو سکتا ہے، لیکن غیر متوازن کمزوری عراق اور شام میں نئے خلا پیدا کر سکتی ہے، جس سے سرحدی سلامتی، مہاجرین اور مسلح گروہوں کے مسائل مزید پیچیدہ ہو سکتے ہیں۔

توانائی کے بحران کو بھی ترکیہ کے لیے ایک بڑا خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق آبنائے ہرمز میں کسی بھی قسم کی کشیدگی تیل اور گیس کی عالمی ترسیل کو متاثر کرے گی، جس کا براہِ راست اثر ترکیہ کی معیشت، مہنگائی، کرنسی اور بجٹ پر پڑے گا۔

ترک تجزیہ کاروں نے آخر میں مشورہ دیا ہے کہ انقرہ کو ایک متوازن اور محتاط حکمت عملی اختیار کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق ترکی کو ایران کے ساتھ رابطے جاری رکھنے چاہییں، نیٹو کے دفاعی نظام کا حصہ بھی رہنا چاہیے، لیکن اپنی علاقائی سفارت کاری کو صرف مغربی ترجیحات تک محدود نہیں کرنا چاہیے۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا کہ ترکیہ فلسطین کے معاملے پر اسرائیل پر تنقید جاری رکھ سکتا ہے، لیکن خطے میں اسرائیل کے اثر و رسوخ، امریکی سیاست میں اس کی اہمیت اور توانائی و سکیورٹی کے معاملات کو مکمل طور پر نظر انداز کرنا حقیقت پسندانہ نہیں ہوگا۔

تجزیے کے مطابق آنے والا دور ترکیہ کے لیے بیک وقت موقع بھی ہے اور آزمائش بھی، اور کامیابی کا انحصار اس بات پر ہوگا کہ انقرہ کب بولنا ہے اور کب خاموش رہنا ہے، اس کا فیصلہ کتنی دانشمندی سے کرتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha