21 جولائی 2026 - 18:16
حزب اللہ رہنما کا انتباہ؛ براہِ راست مذاکرات پر اصرار لبنان میں داخلی اختلافات بڑھا دے گا

لبنان کی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے اتحادی بلاک کے رکن حسن عزالدین نے صدرِ لبنان کے مؤقف پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ براہِ راست مذاکرات جاری رکھنے اور مزاحمت کے اسلحے کے معاملے کو آگے بڑھانے پر اصرار ملک میں سیاسی اختلافات کو مزید گہرا کر سکتا ہے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، وفاداری بہ مزاحمت پارلیمانی بلاک کے رکن حسن عزالدین نے حزب اللہ کے ایک شہید کی یاد میں منعقدہ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ لبنانی صدر کی جانب سے مزاحمت کے اسلحے کے خاتمے پر زور دینا صہیونی رژیم کے اہداف سے ہم آہنگ ہے۔

انہوں نے کہا کہ صہیونی قبضے کا خاتمہ، لبنان کی تعمیرِ نو اور اقتصادی امداد کو مزاحمت کے اسلحے سے مشروط کرنا دراصل لبنان کی دفاعی صلاحیت کو کمزور کرنے کے مترادف ہے۔ ان کے بقول مزاحمت کا اسلحہ صہیونی خطرات کے مقابلے میں لبنان کی آزادی اور خودمختاری کے تحفظ کا ذریعہ ہے۔

حسن عزالدین نے جنوبی لبنان کی صورتحال کے حوالے سے لبنانی حکومت کی کارکردگی پر بھی شدید تنقید کی اور دعویٰ کیا کہ نام نہاد "فریم ورک معاہدہ" مزاحمت کو غیر مسلح کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ یہ معاہدہ صہیونی رژیم کے مفادات کو مدنظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا گیا ہے، لہٰذا لبنانی حکام کو اس کے نتائج کے بارے میں جواب دہ ہونا چاہیے۔

حزب اللہ کے رکن پارلیمنٹ نے مزید کہا کہ لبنان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت سے کسی بھی قسم کی چشم پوشی داخلی اختلافات میں اضافے کا سبب بنے گی۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha