اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، برطانوی اخبار گارڈین نے اپنی ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران کے خلاف ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے شروع کی گئی جنگ کو تجزیاتی حلقوں میں ایک ناکامی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ اخبار کے مطابق اگرچہ اس جنگ کا حجم اور جانی نقصان ویتنام جنگ جیسا نہیں، لیکن یہ امریکہ کے لیے ایک اہم جغرافیائی و سیاسی موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس جنگ نے یہ ظاہر کر دیا کہ واشنگٹن کے پاس نہ تو کوئی قابلِ اعتماد عملی منصوبہ تھا اور نہ ہی موجودہ عالمی حالات سے ہم آہنگ کوئی مؤثر حکمتِ عملی۔ گارڈین کے مطابق ٹرمپ اب بھی اس سوچ پر قائم ہیں کہ پیش رفت اور کامیابی تعاون کے بجائے تصادم اور کشمکش کے ذریعے حاصل کی جا سکتی ہے۔
اخبار نے لکھا ہے کہ اگرچہ اس جنگ کے داخلی اثرات امریکہ میں ویتنام جنگ جتنے شدید نہیں ہوں گے، لیکن اس کے عالمی نتائج زیادہ گہرے اور دیرپا ثابت ہو سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق حالیہ جنگ نے ایران میں نظام کی تبدیلی کے لیے گزشتہ دو دہائیوں سے جاری اسرائیلی حکمتِ عملی کی ناکامی کو بھی نمایاں کر دیا ہے۔
گارڈین کا کہنا ہے کہ اس تنازع نے خلیج فارس کی عرب بادشاہتوں کو بھی اپنے جغرافیائی اور سیاسی تعلقات پر نظرثانی کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ان ممالک میں یہ سوال شدت اختیار کر رہا ہے کہ آیا خطے میں موجود امریکی فوجی اڈے اب بھی ان کی سلامتی اور اقتصادی منصوبوں کے لیے قابلِ اعتماد ضمانت فراہم کر سکتے ہیں یا نہیں۔
رپورٹ میں جدید جنگوں میں کم لاگت والے ڈرونز کے بڑھتے ہوئے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے اور کہا گیا ہے کہ یہ ہتھیار میدانِ جنگ میں طاقت کے توازن کو تبدیل کرنے والے اہم عوامل میں شامل ہو چکے ہیں۔
گارڈین نے خبردار کیا ہے کہ جنگ کے معاشی اثرات فرانس، جرمنی اور برطانیہ جیسے ممالک میں عوامی دباؤ میں اضافہ کر سکتے ہیں، جس سے وہاں کی اعتدال پسند حکومتوں کی پوزیشن کمزور ہو سکتی ہے اور یورپی اتحاد کو بھی چیلنجز کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق اس جنگ نے امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے سامنے دو بنیادی سوالات بھی کھڑے کر دیے ہیں: کیا اسرائیل کے ساتھ قریبی تعلقات اب بھی امریکی مفادات کے مطابق ہیں، اور کیا امریکہ کو دوبارہ قانون اور مشترکہ اقدار پر مبنی بین الاقوامی اتحادوں کی طرف لوٹنا چاہیے؟
گارڈین نے مزید لکھا کہ امریکہ نے اپنے سب سے طاقتور حربے یعنی جنگ کا استعمال کیا، لیکن اپنے اہداف حاصل کرنے میں کامیاب نہ ہو سکا، جبکہ ایران نے یہ محسوس کیا کہ آبنائے ہرمز اور اپنی جغرافیائی پوزیشن کی بدولت اسے عالمی معیشت میں ایک غیر معمولی تزویراتی برتری حاصل ہے۔
رپورٹ کے اختتام میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ سعودی عرب، ترکیہ، قطر، مصر اور پاکستان پر مشتمل ایک علاقائی صف بندی نے ٹرمپ کو دوبارہ جنگ کی طرف بڑھنے سے روکا، اور آئندہ خطے میں انہی ممالک اور ایران کے تعلقات مشرقِ وسطیٰ کی سیاست کی سمت متعین کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔
آپ کا تبصرہ