بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ "عبدالوہاب بدرخان" نے سعودی جریدے "الوطن" میں اپنی ایک تحریر کے ضمن میں "واشنگٹن" اور "تہران" کے درمیان جنگ اور مذاکرات کے عمل کا حوالہ دیتے ہوئے لکھا کہ: "ایران کی مکمل تباہی کی دھمکی سے لے کر جنگ بندی اور عارضی معاہدے کی قبولیت تک،"، "ڈونلڈ ٹرمپ" کی تمام تضاد گوئیاں، اس بحران کی حتمی سمت کے تعین میں "وائٹ ہاؤس" کو درپیش الجھنوں کا شاخسانہ ہیں۔
عبدالوہاب بدرخان نے مزید لکھا ہے: ٹرمپ ہفتوں کی فوجی کارروائیوں اور سیاسی دباؤ کے بعد نہ تو اپنے اعلان کردہ مقصد یعنی ایران کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرنے میں کامیاب ہو پایا ہے، اور نہ ہی اعتماد کے ساتھ جنگ کے آپشن کو جاری رکھ سکا ہے؛ اس لئے واشنگٹن مجبوراً ایک محدود مفاہمت نامے اور جنگ بندی میں مسلسل توسیع کی طرف مائل ہؤا ہے۔
بدرخان نے لکھے کہ اگلے ـ ممکنہ ـ منظرنامے دو اہم راستوں کے درمیان نظرآتے ہیں:
- جنگ کے خاتمے کے لئے مرحلہ وار معاہدے کی طرف بڑھنا یا
- کشیدگی کے چکر اور فوجی حملوں کی طرف واپسی؛ تاہم ان کا کہنا ہے کہ
- "خلیج فارس" کے عرب ممالک کا دباؤ اور علاقائی کھلاڑیوں کی ثالثی نے فی الحال مذاکرات کے تسلسل کے پلڑے کو بھاری رکھا ہؤا ہے ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ