اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق، حزب اللہ لبنان کے سینئر رہنما غالب ابو زینب نے امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو کے حالیہ بیانات پر سخت ردعمل دیتے ہوئے امریکہ کو لبنان کے خلاف اسرائیلی کارروائیوں کا براہِ راست شریک قرار دیا ہے۔
غالب ابو زینب نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کی جانب سے حزب اللہ کو جنگ کا ذمہ دار ٹھہرانا حیران کن نہیں، کیونکہ واشنگٹن مکمل طور پر اسرائیلی مؤقف کی حمایت کر رہا ہے۔ ان کے مطابق یہ بیانات لبنان پر جاری حملوں اور شہری ہلاکتوں کی حقیقت کو چھپانے کی کوشش ہیں۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ لبنانی شہریوں، خواتین اور بچوں کو کون نشانہ بنا رہا ہے، دیہات اور رہائشی علاقوں کو کون تباہ کر رہا ہے اور لبنان کی خودمختاری کی مسلسل خلاف ورزی کون کر رہا ہے۔ ان کے بقول ان تمام کارروائیوں کے پیچھے اسرائیل ہے جسے امریکہ کی سیاسی اور عسکری حمایت حاصل ہے۔
حزب اللہ رہنما نے لبنانی حکومت پر بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیل کے ساتھ جاری مذاکرات اور کشیدگی میں کمی کے دعوے عملی نتائج سے خالی ہیں اور ان کا مقصد اسرائیلی کارروائیوں کے لیے سیاسی جواز فراہم کرنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بعض سرکاری حلقوں کی خاموشی اسرائیل اور امریکہ کے مؤقف کو تقویت دے رہی ہے۔
غالب ابو زینب نے واضح کیا کہ حزب اللہ لبنان، اس کی سرزمین اور عوام کے دفاع کا سلسلہ جاری رکھے گی اور کسی بھی دباؤ یا سیاسی مہم کے ذریعے مزاحمت کو کمزور نہیں کیا جا سکتا۔
دوسری جانب لبنانی پارلیمنٹ میں حزب اللہ کے رکن علی فیاض نے کہا کہ جنوبی لبنان مسلسل حملوں کی زد میں ہے جبکہ حکومت کا ردعمل محدود اور غیر مؤثر دکھائی دیتا ہے۔ ان کے مطابق مذاکرات اسی وقت مؤثر ہو سکتے ہیں جب لبنان کے پاس اپنے مفادات کے دفاع کے لیے طاقت اور مؤثر دباؤ کے ذرائع موجود ہوں۔
انہوں نے مزید کہا کہ کسی بھی شکل میں لبنانی سرزمین پر اسرائیلی موجودگی کو قبضہ تصور کیا جاتا ہے اور اس کے خلاف مزاحمت لبنانی عوام کا جائز حق ہے۔ ان کے بقول مزاحمت کا موجودہ کردار لبنان کی خودمختاری، سرزمین اور عوام کے دفاع سے متعلق ہے۔
یہ بیانات ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب مارکو روبیو نے لبنانی صدر جوزف عون سے گفتگو میں حزب اللہ پر اسرائیل کے خلاف کارروائیاں روکنے کا مطالبہ کیا تھا اور خطے میں کشیدگی کم کرنے کی ضرورت پر زور دیا تھا۔
آپ کا تبصرہ