30 مئی 2026 - 14:35
مآخذ: ابنا
سرایا السلام کی تحلیل کے اعلان پر ابہام، سیاسی حلقوں میں بحث جاری

عراق میں مقتدیٰ صدر کی جانب سے اپنے وابستہ مسلح گروپ سرایا السلام کو تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں متعدد سوالات اور خدشات جنم لے رہے ہیں۔ اگرچہ اس اعلان کو ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے اور اسلحے کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے، تاہم اس کے عملی طریقہ کار اور اصل مقاصد اب بھی واضح نہیں ہیں۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،عراق میں مقتدیٰ صدر کی جانب سے اپنے وابستہ مسلح گروپ سرایا السلام کو تحلیل کرنے کے اعلان کے بعد سیاسی اور عوامی حلقوں میں متعدد سوالات اور خدشات جنم لے رہے ہیں۔ اگرچہ اس اعلان کو ریاستی اداروں کو مضبوط بنانے اور اسلحے کو سرکاری کنٹرول میں لانے کی کوشش قرار دیا گیا ہے، تاہم اس کے عملی طریقہ کار اور اصل مقاصد اب بھی واضح نہیں ہیں۔

سرایا السلام، جو الحشد الشعبی کے ڈھانچے میں شامل تین مسلح بریگیڈز پر مشتمل ہے، عراق کے مختلف شہروں میں سیکیورٹی ذمہ داریاں انجام دیتا ہے۔ مقتدیٰ صدر نے حالیہ بیان میں اعلان کیا کہ اس تنظیم کو تحلیل کرکے اس کے معاملات براہ راست عراقی ریاست اور مسلح افواج کی قیادت کے تحت لائے جائیں گے، تاہم اس عمل کی تفصیلات بیان نہیں کی گئیں۔

سیاسی مبصرین کا کہنا ہے کہ یہ پہلا موقع نہیں جب مقتدیٰ صدر نے ایسا اعلان کیا ہو۔ اس سے قبل بھی وہ مختلف اوقات میں اپنی مسلح تنظیموں کی سرگرمیاں محدود یا ختم کرنے کی بات کر چکے ہیں، لیکن عملی طور پر ان تنظیموں کا وجود برقرار رہا ہے۔

عراقی سیاسی ذرائع کے مطابق بعض حلقے اس اقدام کو دیگر مسلح گروہوں پر دباؤ بڑھانے کی کوشش قرار دے رہے ہیں تاکہ وہ بھی اپنے ہتھیار ریاست کے حوالے کریں۔ دوسری جانب کچھ سیاسی شخصیات کا خیال ہے کہ یہ ایک میڈیا اور سیاسی حکمت عملی ہے جس کے ذریعے مقتدیٰ صدر اپنے روایتی حریفوں اور مخالف گروہوں پر دباؤ ڈالنا چاہتے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ عراق میں اب بھی کئی مسلح تنظیمیں ایسی ہیں جو اپنے ہتھیار ریاستی اداروں کے حوالے کرنے پر آمادہ نہیں، جس کے باعث حکومت کے لیے اسلحے کو مکمل طور پر ریاستی کنٹرول میں لانے کا منصوبہ ایک بڑا چیلنج بنا ہوا ہے۔

عراقی سیاسی تجزیہ کار غالب الدعمی کے مطابق مقتدیٰ صدر کا حالیہ اعلان ان کی طویل المدتی پالیسی کا حصہ ہے، جس کا مقصد مسلح قوتوں کو ریاستی اداروں کے تابع کرنا ہے۔ ان کے بقول اگر یہ منصوبہ مکمل طور پر نافذ ہوتا ہے تو سرایا السلام کے ارکان باقاعدہ سیکیورٹی ڈھانچے کا حصہ بن کر حکومتی احکامات کے تحت خدمات انجام دیں گے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس معاملے کی حساس سیکیورٹی نوعیت کے باعث ممکن ہے کہ اس کے عملی مراحل اور انتظامی تفصیلات عوام کے سامنے مکمل طور پر ظاہر نہ کی جائیں۔ تاہم یہ پیش رفت عراق میں ریاستی اختیار، مسلح گروہوں کے کردار اور داخلی سیاسی توازن کے حوالے سے ایک اہم موضوع بن چکی ہے۔

مبصرین کے مطابق آنے والے دنوں میں یہ واضح ہوگا کہ آیا سرایا السلام کی تحلیل کا اعلان عملی شکل اختیار کرتا ہے یا یہ اقدام صرف سیاسی دباؤ اور پیغام رسانی کی حکمت عملی ثابت ہوتا ہے۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha