28 مئی 2026 - 16:33
برطانوی سفیر کے دعوے پر مقتدیٰ صدر کا سخت ردعمل

عراق میں برطانوی سفیر کے متنازع بیان پر رہبرِ تحریکِ صدر مقتدیٰ صدر نے شدید ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر چند شیعوں نے برطانیہ کے سامنے جھکنے کا راستہ اختیار کیا تو ہم کبھی اس گروہ کا حصہ نہیں تھے اور نہ دنیا و آخرت میں ہوں گے۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، عراق میں تحریکِ صدر کے سربراہ مقتدیٰ صدر نے سوشل میڈیا پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ انہیں اطلاع ملی ہے کہ عراق میں برطانوی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ شیعوں کو اقتدار میں لانے والے وہ تھے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بات ان کے لیے غصے اور افسوس دونوں کا باعث بنی۔

مقتدیٰ صدر نے برطانوی سفیر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ اگر شیعوں کا ایک چھوٹا طبقہ برطانیہ کے سامنے جھک گیا تھا تو ہم اس گروہ میں شامل نہیں تھے اور نہ ہی کبھی ہوں گے۔

انہوں نے مزید کہا کہ برطانیہ کو یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ سابق عراقی ڈکٹیٹر صدام حسین کو اقتدار میں لانے میں بھی اسی کا کردار تھا۔

صدر نے اپنے بیان میں یہ بھی کہا کہ برطانوی حکام کو یاد ہونا چاہیے کہ عراق، خصوصاً بصرہ کو برطانوی تسلط سے آزاد کرانے کے لیے سب سے مؤثر مزاحمت کس نے کی تھی۔

رہبرِ تحریکِ صدر نے بعثی رژیم کے خلاف اپنی جماعت کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اگر ان کی تحریک صدام رژیم کی مخالفت نہ کرتی تو عالمی برادری کبھی یہ نہ جان پاتی کہ عراقی عوام اس حکومت کو مسترد کر چکے ہیں۔

انہوں نے تاکید کی کہ صدام کے خاتمے میں ان کے خاندان اور حامیوں کے خون کا بنیادی کردار ہے۔

مقتدیٰ صدر نے برطانیہ پر بعثی عناصر، دین مخالف افراد اور عراق دشمن شخصیات کو پناہ دینے کا الزام بھی عائد کیا اور مطالبہ کیا کہ لندن ان تمام افراد کو فوری طور پر عراقی عدالتوں کے حوالے کرے۔

واضح رہے کہ میڈیا رپورٹس کے مطابق بغداد میں برطانوی سفیر عرفان صدیق نے ایک ٹی وی انٹرویو میں دعویٰ کیا تھا کہ عراق میں شیعوں کو اقتدار تک پہنچانے میں برطانیہ کا کردار تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha