اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق تہران کے قائم مقام امامِ جمعہ سید محمد حسن ابوترابی فرد نے کہا ہے کہ “جنگِ رمضان” نے ثابت کر دیا کہ امریکہ مغربی ایشیا میں سیاسی نقشہ دوبارہ ترتیب دینے کی اپنی طاقت کھو چکا ہے۔
جمعہ خطبے سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ انبیائے کرام کی تعلیمات کسی ایک قوم یا دور تک محدود نہیں بلکہ انسانیت کی رہنمائی کے لیے ہیں۔ ان کے مطابق الٰہی انبیاء نے ہمیشہ علم، عدل اور اخلاق پر مبنی معاشروں کی بنیاد رکھی۔
ابوترابی نے کہا کہ حقیقی اسلامی نظام علم و دانش پر قائم ہوتا ہے اور یہی اصول دینی حکمرانی کی بنیاد ہے۔ انہوں نے عیدِ غدیر کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ اس دن قیادتِ امت کے لیے اہل اور پاکیزہ شخصیات کا انتخاب کیا گیا تاکہ انسانی معاشرے کو صحیح سمت دی جا سکے۔
انہوں نے دعویٰ کیا کہ گزشتہ روز امریکی افواج نے بندر عباس ایئرپورٹ کے قریب ایک مقام پر حملہ کیا، جس کا جواب سپاہ کی ایرو اسپیس فورس نے فوری اور سخت انداز میں دیا۔ ان کے مطابق اس کارروائی نے ایران کی دفاعی طاقت اور بازدارانہ صلاحیت کو مزید مضبوط کیا۔
امامِ جمعہ تہران نے کہا کہ آج دنیا صرف طاقت کی زبان سمجھتی ہے، اسی لیے ایران اور محورِ مزاحمت کو اپنی دفاعی اور سائنسی طاقت میں مسلسل اضافہ کرنا ہوگا۔
انہوں نے لبنان پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ ان حملوں میں بے گناہ شہری شہید اور بنیادی ڈھانچے تباہ ہو رہے ہیں۔ ان کے مطابق امریکہ کی مکمل سیاسی اور عسکری حمایت کے بغیر یہ کارروائیاں ممکن نہیں۔
ابوترابی نے کہا کہ اسرائیل اور امریکہ “جنگِ رمضان” کے بعد یہ حقیقت سمجھ چکے ہیں کہ خطے میں ان کا سیاسی اثر کمزور پڑ چکا ہے، اور یہ صورتحال مغربی ایشیا میں امریکی و اسرائیلی موجودگی کے خاتمے کی علامت ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ایران کی میزائل اور ڈرون طاقت دراصل علم، ایمان اور قومی خود انحصاری کا نتیجہ ہے، جس نے ملک کو غیر معمولی دفاعی صلاحیت فراہم کی ہے۔
آپ کا تبصرہ