25 مئی 2026 - 22:38
مآخذ: ابنا
واشنگٹن پوسٹ کا دعویٰ: ٹرمپ ایران کے ساتھ معاہدے پر مجبور

امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کی تلاش میں ہیں جو انہیں موجودہ سیاسی اور عسکری تعطل سے نکال سکے۔

اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،امریکی اخبار واشنگٹن پوسٹ نے اپنی ایک رپورٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ ڈونلڈ ٹرمپ ایران کے ساتھ ایسے معاہدے کی تلاش میں ہیں جو انہیں موجودہ سیاسی اور عسکری تعطل سے نکال سکے۔

رپورٹ کے مطابق، جنگ کے آغاز میں ٹرمپ کی جانب سے دیے گئے “غیر مشروط ہتھیار ڈالنے” کے نعرے اور موجودہ مذاکراتی فریم ورک میں واضح فرق دیکھا جا رہا ہے۔ اخبار نے اس ممکنہ معاہدے کو “فتح” کے بجائے ٹرمپ کے لیے ایک “ہنگامی راستۂ فرار” قرار دیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ مجوزہ معاہدے کے اہم نکات میں آبنائے ہرمز کو فوری اور بغیر کسی رکاوٹ کے کھولنا، ایران کی جانب سے جوہری ہتھیار نہ بنانے کی یقین دہانی، اور اس کے بدلے میں ایرانی اثاثوں کی بحالی اور مرحلہ وار پابندیوں میں نرمی شامل ہے۔

تاہم، جوہری پروگرام سے متعلق کئی اہم تکنیکی تفصیلات ابھی بھی غیر واضح ہیں اور انہیں 60 روزہ مذاکراتی مدت پر چھوڑ دیا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق ایران اب تک افزودہ یورینیم ملک سے باہر منتقل کرنے پر آمادہ نہیں ہوا۔

واشنگٹن پوسٹ نے مزید لکھا کہ وائٹ ہاؤس کو امید ہے کہ آبنائے ہرمز کھلنے کے بعد عالمی توانائی منڈی میں فوری استحکام آئے گا۔ مغربی حکام کے مطابق خلیج فارس میں بڑی تعداد میں تیل بردار جہاز موجود ہیں جن میں تقریباً 150 ملین بیرل تیل ہے، تاہم آزاد تجزیہ کار اس اندازے کے جلد حقیقت بننے پر شکوک رکھتے ہیں۔

رپورٹ میں ایک ذریعے کے حوالے سے کہا گیا کہ امریکا کے پاس بمباری کی صلاحیت تو موجود ہے، لیکن ایسا کوئی مؤثر آپشن نہیں جس سے ایران کے اسٹریٹجک فیصلوں کو بدلا جا سکے۔

اخبار نے نتیجہ اخذ کیا کہ ٹرمپ انتظامیہ ایران کے ساتھ معاہدے کو ایک ایسے راستے کے طور پر دیکھ رہی ہے جو امریکا کو ایک طویل عسکری اور سیاسی دلدل سے نکال سکے، کیونکہ صرف فوجی کارروائیاں ایران کی پالیسی تبدیل کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکیں۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha