23 مئی 2026 - 21:37
ایرانی ایئر ڈیفنس سسٹم نے امریکی ڈرون فلیٹ کو ایک ارب ڈالر کا نقصان پہنچایا

"بلومبرگ" کے مطابق، ایران نے جنگ کے آغاز سے، ایک ارب ڈالر کے 24 سے 30 تک MQ-9 ریپر امریکی ڈرون طیارے تباہ کردیئے ہیں؛ یوں ان جدید امریکی ڈرونز کا 20 ذخیرہ تباہ ہو چکا ہے، جن کے متبادل کی فراہمی بہت مشکل ہے۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ خبر رساں ادارے بلومبرگ نے ایک رپورٹ میں لکھا ہے کہ ایران نے امریکہ کے ساتھ جھڑپوں کے دوران 24 سے زائد MQ-9 ریپر ڈرون کو مار گرایا ہے، جس سے ان ڈرونز کے ذخیرے کا 20 فیصد تباہ ہو گیا ہے؛ جبکہ ان فوجی آلات کا متبادل میدان میں لانا بہت مشکل کام ہے۔

مار گرائے گئے ڈرونز کی تعداد 30 تک (تقریباً ایک ارب ڈالر) بھی بتائی گئی ہے۔

امریکہ میں ہر ایک ریپر ڈرون کی تیاری پر تقریباً 30 ملین (تین کروڑ) ڈالر لاگت آتی ہے۔

ٹرمپ کی شیخیوں کے مطابق، واشنگٹن نے ایران پر حملہ کیا تاکہ اپنی مکمل فوجی برتری کے مظاہرہ کرے، اور طاقت کا توازن چند ہی دنوں میں امریکہ کے حق میں بدل دیا جائے، لیکن جنگ دو یا تین دنوں یا ایک ہفتے میں ختم نہيں ہوئی، ایران نے استقامت کی اور امریکہ کے میدانی اخراجات میں تباہ کن اضافہ ہؤا جس کی وجہ سے نتیجہ پلٹ گیا۔

اس جنگ کے دوران امریکہ کے کافی اثاثے تباہ ہوئے لیکن یہاں صرف اعلیٰ درجے کے MQ-9 ریپر ڈرونز کی بات ہو رہی ہے اور ان بغیر پائلٹ کے طیاروں کے امریکی ذخیرے کا 20 فیصد حصہ تباہ ہو گیا اور ثابت ہؤا کہ مہنگے اور جدید ترین امریکی آلات بھی ایران کے دفاعی نیٹ ورک اور دفاعی صلاحیت کے سامنے غیر محفوظ ہیں۔ جن میں امریکہ کے ایف 15، ایف 16، ایف 18، A-10، ایف 35، ہرکولیس کارگو طیارے، ایئرفیولنگ کے لئے مخصوص طیارے، آواکس طیارے، MQ-4C ڈرونز، متعدد کارگو اور جنگی ہیلی کاپٹرز اور متعدد بحری جہاز بھی تباہ ہوئے جو خطے میں کم از کم 228 امریکی ٹھکانوں کی مکمل تباہی کے علاوہ ہیں۔ 

اہم بات یہ ہے کہ واشنگٹن فوجی اور میڈیا پر بھاری رقوم خرچ کیں لیکن اس کے باوجود اپنے اعلان کردہ اہداف حاصل کرنے میں ناکام رہا ہے اور یہ ناکام و فرسودہ جنگ بتدریج ٹرمپ انتظامیہ پر داخلی دباؤ کا بھی سبب بن گئی ہے جس کی مثال ٹرمپ کے حامی ریپبلکن ارکان کانگریس میں سے بھی کئی ڈیموکریٹ ارکان سے جاملے ہیں، ٹرمپ کے جنگی اختیارات کم کرنے کی قرارداد سینٹ میں منظور ہوئی ہے، اور ایوان نمائندگان میں منظوری کے لئے پیش کی جا رہی ہے لیکن کل ریپبلکنز نے اس قراداد کی منظور کے خوف سے، واک آؤٹ کرکے کورم کو پورا نہیں ہونے دیا لیکن بہرحال یہ ایک عمل ہے جو جاری رہے گا۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha