30 اگست 2025 - 01:06
پاکستان: دریائے سندھ میں بھی شدید سیلاب کا خطرہ / دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب

پاکستان کی نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی (این ڈی ایم اے) کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ میں بھی شدید سیلابی صورتحال کا خطرہ ہے، 3 سے 4 ستمبر کے دوران 9 سے ساڑھے 9 لاکھ کیوسک تک کے ریلے پنجند ہیڈ ورکس سے گزریں گے / بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب میں 39سال کا بدترین سیلاب، بڑے پیمانے پر تباہی جاری، خطرات برقرار، 1400بستیاںزیر آب، 10لاکھ افراد متاثر، سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت فصلیں تباہ، اموات 12ہوگئیں۔

بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا ـ کے مطابق، این ڈی ایم اے پاکستان کا کہنا ہے کہ بند توڑ کے بہاؤ کا رخ بدلنے کی صورت میں 8 لاکھ 25 ہزار سے 9 لاکھ کیوسک کے ریلے متوقع ہیں، گڈو بیراج پر 5 سے 6 ستمبر کے دوران 8 لاکھ سے11 لاکھ کیوسک بہاؤ متوقع ہے۔

پاکستان نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ بند توڑ کر پانی کا رخ موڑنے کی صورت میں بہاؤ 7 لاکھ 50 ہزار سے 9 لاکھ کیوسک ہو سکتا ہے، مجموعی طور پر بہاؤ 12 لاکھ کیوسک متوقع ہے جو انتہائی اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا کرے گا۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ سکھر بیراج میں 6 تا 7 ستمبر کے دوران 8 لاکھ سے 11 لاکھ کیوسک کا بہاؤ متوقع ہے، کوٹری بیراج میں 8 تا 9 ستمبر کے دوران 8 سے 10 لاکھ کیوسک پانی کا بہاؤ متوقع ہے، 12 سے 13 ستمبر ہائی الرٹ رہے گا۔

نیشنل ڈیزاسٹر منیجمنٹ اتھارٹی کا کہنا ہے کہ دریائے سندھ کے نشیبی علاقوں میں شدید اونچے درجے کا سیلاب متوقع ہے، بالائی علاقوں میں موجود شدید بہاؤ نشیبی علاقوں میں اونچے درجے کی سیلابی صورتحال پیدا کر سکتا ہے۔

این ڈی ایم اے کا کہنا ہے کہ نشیبی اور دریائی علاقے خطرے میں اوور فلو، بند ٹوٹنے اور علاقے زیر آب آنے کا خدشہ ہے، سیلابی ریلوں کے باعث زرعی اراضیاں، قریبی آبادیاں، دیہات اور تعمیرات متاثر ہو سکتی ہیں۔

وزیر اعلیٰ سندھ  کی ممکنہ سیلابی صورتحال سے نمٹنے کیلئے انتظامیہ کو الرٹ رہنے کی ہدایت

دوسری جانب وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے پی ڈی ایم اے اور ضلعی انتظامیہ کو سیلابی صورتحال کے لیے مکمل تیاری کرنے اور الرٹ رہنے کا حکم دے دیا۔

وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ کی زیر صدارت فلڈ ایمرجنسی اجلاس ہوا، بریفنگ میں آگاہ کیا گیا کہ یکم ستمبر سے سندھ کے مختلف اضلاع میں بارشوں کی پیشگوئی ہے۔

سیلابی صورتحال کے باعث 52 ہزار سے زائد خاندان متاثر ہونے کا خدشہ ہے، اونچے سیلاب کی صورت میں 50 ہزار سے زیادہ خاندان متاثر ہو سکتے ہیں۔

پی ڈی ایم اے کے حکام نے بتایا کہ شمالی اضلاع میں 72 اور جنوبی اضلاع میں 106 ریسکیو بوٹس کا بندوبست کیا ہے، ہمارے پاس مچھر دانیاں، کمبل، فرسٹ ایڈ کٹس، کچن سیٹ بڑی تعداد میں موجود ہیں، میٹرس، پلاسٹک میٹ، پورٹ ایبل ٹوائلٹ، لحاف، سلیپنگ میٹ، خیمے، ڈی واٹرنگ پمپس اور جنریٹرز بھی بڑی تعداد میں موجود ہیں۔

اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ نے کہا کہ گڈو بیراج پر بدھ جمعرات کی درمیانی رات 7 سے 8 لاکھ کیوسک پانی پہنچ سکتا ہے، سیلابی ریلا آنے پر انسانوں اور جانوروں کو کسی صورت نقصان نہیں ہونا چاہیے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے شمالی اضلاع میں ریسکیو 1122 کا 30 ہزار سے زائد عملہ تعینات کرنے، دریا کے کناروں پر 500 سے زائد کیمپ قائم کرنے اور نجی سیکٹر سے بھی ضروری مشینری کا بندوبست رکھنے کی سختی سے ہدایات کیں۔

دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار

دریائے چناب میں چنیوٹ برج پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب برقرار ہے، یہاں پانی کا بہاؤ 8 لاکھ 55 ہزار کیوسک ہے۔

پاکستان: دریائے سندھ میں بھی شدید سیلاب کا خطرہ / دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب

دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر انتہائی اونچے درجے کا سیلاب ہے، یہاں پانی کا بہاؤ 1 لاکھ 76 ہزار کیوسک ہے اور پانی کی سطح میں کمی ہورہی ہے۔

نیشنل ایمرجنسی آپریشن سینٹر کے مطابق 30 اگست سے 3 ستمبر تک دریائے راوی کے بالائی ملحقہ علاقوں میں بارشیں اور تھین ڈیم سے پانی کا اخراج متوقع ہے۔

دریائے راوی میں بلوکی کے مقام پر اس وقت تقریباً 1 لاکھ 47 ہزار کیوسک کا بہاؤ موجود ہے، 2 سے 3 ستمبر کے دوران یہ سیلابی ریلا سدھنائی پہنچے گا، جہاں 1 لاکھ 25 ہزار سے1 لاکھ 50 ہزار کیوسک تک بہاؤ متوقع ہے۔

دریائے راوی میں سیلابی صورتحال کے باعث لاہور کے ممکنہ متاثرہ علاقوں میں لاہور سٹی اور رائیونڈ شامل ہیں، قصور، پتوکی، اوکاڑہ، رینالہ خورد، دیپالپور، گوگرا، تانڈیانوالہ،کمالیہ، پیر محل، اڈا حکیم اور سدھنائی کے علاقے بھی متاثر ہو سکتے ہیں۔

سیلاب، پنجاب میں خطرات برقرار، سیکڑوں بستیاں زیرآب، 10 لاکھ متاثر فصلیں تباہ، سندھ میں الرٹ، بلوچستان حکومت بھی متحرک

بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث پنجاب میں 39سال کا بدترین سیلاب، بڑے پیمانے پر تباہی جاری، خطرات برقرار،  1400بستیاںزیر آب، 10لاکھ افراد متاثر،  سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت فصلیں تباہ، اموات 12ہوگئیں۔

پاکستان: دریائے سندھ میں بھی شدید سیلاب کا خطرہ / دریائے چناب میں اونچے درجے کا سیلاب

بنیادی ڈھانچے کو شدید نقصان، لاکھوں ایکڑ زرعی زمین برباد، شہریوں کی بڑے پیمانے پر نقل مکانی، اسلام آباد، کراچی، لاہور اور سیالکوٹ سمیت ملک بھر میں بارشوں کا الرٹ جاری،  بلوچستان حکومت بھی متحرک، تین بپھرے دریاؤں میں سے چناب میں پانی کا زورٹوٹ گیا۔

انتظامیہ، فوج اور رینجرز کی امدادی کارروائیوں میں تیزی، ملتان شہر کو بچانے کے لیے 2 بند اڑانے کا فیصلہ کرلیا گیا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی جانب سے پانی چھوڑے جانے اور بارشوں کے باعث سیلاب سے پنجاب میں بڑے پیمانے پر تباہی پھیلا رکھی ہے، کئی مقامات پر بند ٹوٹنے سے پانی آبادیوں میں داخل ہو گیا، فصلیں زیر آب آگئیں اور ہزاروں افراد کو محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

دریائے راوی میں شاہدرہ کے مقام پر پانی کا بہاؤ ایک لاکھ 83 ہزار کیوسک سے زائد ہو گیا ہے جبکہ ضلعی انتظامیہ کے مطابق آج دوپہر تک دریائے راوی سے 2 لاکھ کیوسک کا ریلا گزرنے کا امکان ہے۔

دریائے راوی کی گنجائش 2 لاکھ 50 ہزار کیوسک ہے، راوی سائفن سے ایک لاکھ 92 ہزار کیوسک کا ریلہ گزر رہا ہے، بہاؤ میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔سیلابی راستوں سے مٹی ہٹانے کا سلسلہ جاری ہے جب کہ ریسکیو کے مزید اہلکار طلب اور اضافی کشتیاں بھی منگوا لی گئی ہیں۔

کمشنر لاہور کا کہنا ہے کہ راوی سائفن پر پانی کا بہاو مستحکم ہو گیا ہے، شاہدرہ پر بھی کچھ گھنٹوں میں پانی کا بہاؤ مستحکم ہونے کا امکان ہے‘ راوی کے بیڈ سے انخلاء مکمل کر لیا گیا ہے جبکہ قریبی علاقوں سے انخلاء جاری ہے۔

مریم اورنگزیب نے بتایا کہ پنجاب میں سیلاب کے باعث مختلف حادثات میں اب تک 12 افراد جاں بحق ہو چکے ہیں، تمام ادارے الرٹ ہیں۔

دریائے ستلج میں سیلابی پانی کا دباؤ شدید ہونے کے باعث بہاولپور میں بستی یوسف والا اور احمد والا کے عارضی بند ٹوٹ گئے، بند ٹوٹنے سے بستی احمد بخش اور قریبی آبادیاں بھی سیلابی پانی میں گھر گئی ہیں۔پانی کے بہاؤ میں تیزی کے باعث زمینی کٹاؤ میں تیزی آ گئی ہے، سیکڑوں ایکڑ رقبے پر کاشت کپاس، دھان سمیت کئی فصلیں زیر آب آگئی ہیں جب کہ دریا کے بیٹ میں آباد سیکڑوں افراد اب بھی اپنے گھروں میں موجود ہیں۔

دریائے چناب میں کوٹ مومن کی حدود میں 6 لاکھ کیوسک کا ریلا داخل ہوا، پانی کھیتوں اور قریبی آبادیوں میں داخل ہونا شروع ہو گیا جبکہ آج 10 لاکھ کیوسک کا ریلا کوٹ مومن سےگزرنےکا امکان ہے۔

ڈپٹی کمشنر سرگودھا کا کہنا ہے ضلعی انتظامیہ کی جانب سے سیلاب سے نمٹنے کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں۔

۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

110

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha