بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛ بیجنگ میں چین کی بیجنگ فارن اسٹڈیز یونیورسٹی (Beijing Foreign Studies University [BFSU]) کے خارجہ مطالعات کی پروفیسر، ایرانی امور کی تجزیہ کار، پروفیسر مو ہونگ یان (Mu-Hong Yan) نے تیسری مسلط کردہ جنگ کے بعد کے اسلامی جمہوریہ ایران کی حالت کے بارے میں: "ایران ایک قدیم تہذیب اور قدیم تاریخ کے ساتھ ساتھ گرانقدر اور عظیم مقامی ساختہ اثاثوں کے ساتھ سائنس، صنعت اور فوجی امور میں عظیم ترقی کی ہے، اور ان ہی عوامل کے مجموعے کی بنیاد پر، عالمی سطح پر خود اعتمادی اور خودباوری کی انتہاؤں پر پہنچ گیا ہے۔"
اسلامی انقلاب کی جڑیں اس ملک کی حقیقی قوم پرستی میں پیوست ہیں
اس چینی خاتون نے ـ جنہوں نے عشروں سے فارسی زبان اور ایرانیوں کی ثقافت کے بارے میں تحقیق کی ہے ـ کہا: "ایرانی جغرافیے کے اندر، خود انحصاری اور عزت نفس جیسے تصورات ـ جو کافی حد تک اس ملک کے عوام کی دینی جڑوں سے جنم لیتے ہیں ـ دوسرے علاقوں سے مختلف تعریف کے حامل ہیں۔ پہلوی دور میں ایران کی حکومت امریکہ سے وابستہ تھی، اور اسی بنا پر اس نے اسرائیل کے ساتھ اچھے تعلقات برقرار کئے تھے، لیکن موجود صورت حال، اور ایران کے ساتھ ان ممالک کی دشمنی سنہ 1979ع کے اسلامی انقلاب کی طرف پلٹتی ہے۔ ایسا انقلاب جس کی نوعیت بہت حد تک اس سرزمین کے عوام کی عزت نفس سے تعلق رکھتی ہے۔"
انھوں نے مزید کہا: "پہلوی دور میں اگرچہ بظاہر، معیشت کچھ ترقی کرتی نظر آتی تھی اور کچھ لوگ مغربیت اور ماڈرنیٹی کی باتیں بھی کرتے تھے، لیکن دوسری طرف سے شاہ عملی طور پر امریکیوں کے ہاتھ میں کٹھ پتلی کا کردار ادا کرتا تھا۔ اسی بنا پر صرف مذہبی لوگ نہیں تھے بلکہ ایران کا فرد فرد، شہنشاہی حکومت کے خلاف اٹھ کھڑا ہؤا اور یہ لوگ ایک دینی انقلاب کے سانچے میں اس حکومت کی بربادی کے لئے سرگرم ہوئے۔ میں دہرانا چاہوں گی کہ یہ اٹھان قومی عزت نفس کے مسئلے سے تعلق رکھتی تھی۔"
مو ہونگ یان نے کہا: "ایران ایک بڑی علاقائی طاقت ہے جو تاریخ کے دوران ـ دو مرتبہ ـ اس کی قلمرو تین براعظموں ـ یعنی ایشیا، یورپ اور افریقہ ـ جتنی وسیع تھی۔ یہ تاریخی حقیقت اور مغربی ایشیا پر اس ملک کا بلا شرکت غیرے تسلط، ایرانیوں کے لئے فخر و مباہات اور قومی خود اعتمادی کا سرچشمہ بنا ہؤا ہے۔"
انھوں نے کہا: "معاصر دور میں، پورا عربی خطہ برطانیہ اور فرانس کی نوآبادی میں تبدیل ہوگیا اور جنوبی ایشیا کا خطہ برطانیہ کی نوآبادی تھا، جبکہ ایران ـ مختلف اطراف سے وسیع پیمانے پر حملے اور مغربی سازشوں اور بعض کٹھ پتلیوں کے خفیہ اور اعلانیہ منصوبوں کے باوجود، کبھی بھی کسی کی نوآبادی نہیں بنا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ