اہل بیت نیوز ایجنسی ابنا کی رپورٹ کے مطابق،گروپ سیون ممالک کے وزرائے خزانہ نے امریکہ کو خبردار کیا ہے کہ ایران کے خلاف جاری جنگ یورپ اور عالمی معیشت کے لیے سنگین نتائج پیدا کر سکتی ہے، اس لیے کشیدگی کو جلد ختم کیا جائے۔
پیرس میں ہونے والے دو روزہ اجلاس کے دوران کینیڈا، فرانس، جرمنی، اٹلی، جاپان، برطانیہ اور امریکہ کے وزرائے خزانہ نے عالمی تجارت، مالی جرائم اور مصنوعی ذہانت سمیت مختلف امور پر بات چیت کی، تاہم ایران کے خلاف جنگ اور اس کے معاشی اثرات اجلاس کا اہم موضوع رہے۔
ذرائع کے مطابق جرمنی، فرانس، اٹلی اور یورپی کمیشن کے نمائندوں نے مشترکہ طور پر خبردار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ میں جاری جنگ سے تیل کی قیمتوں میں شدید اضافہ ہوا ہے، جس سے یورپی معیشت دباؤ کا شکار ہو رہی ہے اور غذائی بحران کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
فرانسیسی وزیر خزانہ نے کہا کہ یورپی ممالک سمجھتے ہیں کہ ایران کے خلاف جنگ فوری طور پر ختم ہونی چاہیے تاکہ آبنائے ہرمز دوبارہ کھل سکے اور عالمی توانائی بحران کم ہو۔
جرمن وزیر خزانہ نے بھی کہا کہ اگرچہ جرمنی اس جنگ کا فریق نہیں، لیکن اس کے معاشی اثرات جرمن معیشت تک پہنچ چکے ہیں، اس لیے برلن فوری جنگ بندی اور مذاکرات کے ذریعے مسئلے کے حل کا خواہاں ہے۔
دوسری جانب امریکی وزیر خزانہ اسکاٹ بیسنٹ نے یورپی اتحادیوں پر زور دیا کہ وہ ایران کے خلاف معاشی دباؤ بڑھانے کے لیے مزید پابندیاں عائد کریں۔
اجلاس کے اختتام پر اٹلی کے وزیر خزانہ نے مشرقِ وسطیٰ میں امن معاہدے کی امید ظاہر کی، جبکہ اطلاعات کے مطابق امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات بھی جاری ہیں۔
گروپ سیون کے دیگر ارکان نے اس بات پر بھی ناراضی ظاہر کی کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایران کے خلاف کارروائی کرتے وقت عالمی معیشت اور آبنائے ہرمز کی ممکنہ بندش کے اثرات کو نظر انداز کیا۔مشکل وقت میں لبنان کے ساتھ کھڑا ہے اور وہ کسی بھی ایسے معاہدے کو قبول نہیں کرے گا جس میں لبنان پر جاری اسرائیلی جارحیت کا خاتمہ شامل نہ ہو۔
آپ کا تبصرہ