بین الاقوامی اہل بیت(ع) نیوز ایجنسی ـ ابنا؛
1۔ یکطرفہ قواعد مسلط کرنے کے دور ختم ہو گیا
سرد جنگ کے بعد کی دہائیوں میں، امریکہ ہی عملی طور پر بین الاقوامی قواعد کا تعین کرتا تھا، دوسرے تماشا دیکھتے تھے یا ماننے پر مجبور تھے، لیکن آج حالات بدل چکے ہیں۔
چین، روس جیسی ابھرتی ہوئی طاقتیں یہاں تک کہ بعض علاقائی کھلاڑی بھی آسانی سے امریکہ پر مرکوز عالمی ترتیب کے تحت چلنے کو تیار نہیں ہیں۔ ایران کی جنگ نے ظاہر کر دیا کہ اب کوئی بھی طاقت اکیلے دنیا پر اپنی مرضی مسلط نہیں کر سکتی۔
2۔ غیر فوجی طاقتوں کے کردار میں اضافہ
نئی عالمی ترتیب (New World Order) کی ایک اہم ترین خصوصیت ان ممالک کے اثر و رسوخ میں اضافہ ہے جو لازمی طور پر براہِ راست فوجی تصادمات اور سرگرمیوں میں کردار ادا نہیں کرتے۔
چین اس تبدیلی کی واضح مثال ہے۔ بیجنگ کا اثر و رسوخ فوجی طاقت پر مبنی ہونے کے بجائے، معیشت، تجارت، سرمایہ کاری اور ثالثی کی صلاحیت پر منحصر ہے۔
درحقیقت، چین کوشش کرتا ہے کہ براہِ راست تنازعات میں داخل ہوئے بغیر، عالمی عدم استحکام سے فائدہ اٹھا کر اپنے سیاسی اور معاشی اثر و رسوخ میں اضافہ کرنے کی [کامیاب] کوشش کرتا ہے۔
3۔ عارضی اور نازک معاہدوں کا پھیلاؤ
آج کی دنیا میں، جامع اور پائیدار معاہدوں تک پہنچنا ماضی کے مقابلے میں زیادہ مشکل ہو گیا ہے۔
اسی وجہ سے، بہت سی طاقتیں "بحران کے حل" کے بجائے "بحران کے انتظام" کی کوشش کرتی ہیں۔ بنیادی مقصد تنازعات کے مکمل پھٹنے کا سد باب کرنا اور مختلف کھلاڑیوں کے لئے وقت خریدنا ہوتا ہے۔
اس فریم ورک کے اندر، یہاں تک کہ اگر امریکہ اور ایران کسی قسم کی کشیدگی میں کمی تک پہنچ بھی جائیں، تو امکان ہے کہ یہ معاہدہ عارضی، محدود اور نازک ہوگا۔
ٹرمپ کیا چاہتا تھا؟
ڈونلڈ ٹرمپ نے ہمیشہ خارجہ پالیسی کو لین دین اور سودے بازی کے نقطہ نظر سے دیکھا ہے۔ وہ امریکہ کے کچھ صدور کے برعکس، روایتی اتحادوں یا نظریاتی فریم ورکس کا کم پابند ہے اور زیادہ ان معاہدوں کی تلاش میں ہے جنہیں وہ "سیاسی فتح" کے طور پر پیش کر سکے۔
ایران کے معاملے میں بھی ایسا لگتا ہے کہ ٹرمپ اس نتیجے پر پہنچ چکا ہے کہ جنگ یا لامتناہی کشیدگی جاری رکھنا نہ صرف بہت مہنگا پڑتا ہے، بلکہ یہ امریکہ کی پوزیشن کو مزید کمزور کر سکتا ہے۔
چنانچہ وہ جنگ بندی کے دوران چین چلا گیا تاکہ وہ ممکنہ طور پر چین کی مدد سے کسی قسم کی جنگ بندی یا محدود معاہدہ کرنے کی کوشش کر لے۔ ایسا معاہدہ جو کم از کم، بحران کو پھیلنے سے روک دے۔
لیکن حالات ٹرمپیات کے موافق نہیں ہیں
- آج دنیا کے حالات ٹرمپ کی پہلی صدارت کے دور سے بہت مختلف ہیں؛
- چین زیادہ طاقتور ہو چکا ہے؛
- چین کو اس جنگ سے کوئی نقصان نہیں پہنچ رہا بلکہ اسے عالمی سطح پر امریکہ کے متبادل کے طور پر ابھر آنے کے مواقع فراہم کر رہی ہے۔ ادھر
- امریکہ کو اندرون خانہ بھی بے شمار چیلنجوں کا سامنا ہے، اور
- ایران ماضی کے مقابلے میں دباؤ کا مقابلہ کرنے کا زیادہ تجربہ اور استعداد رکھتا ہے
- ایران نے اس جنگ میں امریکہ کو تزویراتی طور پر شکست سے دوچار کر دیا ہے
- ایران وقتی معاہدوں اور پھر جنگ اور پھر مذاکرات اور پھر جنگ کے صہیونی-امریکی چال کو سمجھ گیا ہے، چنانچہ
- نہ صرف وقتی و عارضی معاہدوں کے لئے تیار نہیں ہے بلکہ طویل مدتی حل بھی نہیں چاہتا بلکہ جنگ کا مستقل دائمی خاتمہ چاہتا ہے؛ اور اس کے لئے اس نے تمہیدات کا انتظام بھی کر لیا ہے۔
گذشتہ چند دنوں میں ایران پر حملے کے ٹرمپی دھمکی اور پھر اس دھمکی سے پسپائی سے معلوم ہوتا ہے کہ ایرانی انتظامات کافی مؤثر ہیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
110
آپ کا تبصرہ